ہوم » نیوز » عالمی منظر

مصر میں کوروناوائرس ویکسین لگوانے کے نام پر بیہوش کرکے باپ نے بیٹیوں کے اعضائے مخصوصہ کٹوائے، متاثرہ لڑکیوں نے بتایا درد

متاثرہ لڑکیوں نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ہوش کھو دیا اور جب وہ جاگ گئیں تو وہ اپنے پاؤں کو ایک ساتھ بندھے اور اعضائے مخصوصہ میں درد کے احساس سے حیران تھیں۔

  • Share this:
مصر میں کوروناوائرس ویکسین لگوانے کے نام پر بیہوش کرکے باپ نے بیٹیوں کے اعضائے مخصوصہ کٹوائے، متاثرہ لڑکیوں نے بتایا درد
متاثرہ خاتون نے اس واردات کے تین چار دنوں کے بعد اپنے میکے جاکر والد کو پوری کہانی بتائی ، جس کے بعد باپ اور بیٹی نے معاملہ درج کروایا ۔ علامتی تصویر ۔

مصر میں ایک شخص نے اپنی تین بیٹیوں کو کوروناوائرس (Coronavirus)کا ٹیکا لگوانے کے نام پر ان کا اعضائے مخصوصہ (female genital mutilation) کاٹ دیا۔ والد پر الزام ہے کہ یہ کام اس نے ایک ڈاکٹر کے ساتھ مل کیا ہے۔ اس بارے میں لڑکیوں کے وکیل نے کہا کہ باپ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ انہیں کوروناوائرس ویکسین(coronavirus vaccine) کا ٹیکہلگایا جائے گا۔ لڑکیوں کو سمجھانے کے بعد والد نے ڈاکٹر کو گھر پر بلایا اور اس واقعے کو انجام دیا۔

FGM کو 2008 میں غیر قانونی مان لیا گیا

والد اور ڈاکٹر پر یہ الزام لگا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کو ڈرگ دیا گیا اور ان کے اعضائے مخصوصہ کاٹ دئے گئے۔ غور طلب ہے کہ مصر میں 2008 اعضائے مخصوصہ (female genital mutilation) کاٹنے کو غیر قانونی بنادیا گیا تھا۔ اس کے باوجود وہاں یہ سب ابھی بھی ٹرینڈ میں ہے۔ لڑکیوں نے اپنی ماں سے کہا، جو اپنے شوہر سے طلاق لے چکی ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کے بارے میں افسران کو بھی اطلاع دی۔

متاثرہ لڑکیوں نے بتایا اپنادرد: دنیا میں ابھی کسی بھی ملک میں کوروناوائرس ویکسین کا ٹیکا فی الحال موجود نہیں ہے۔ حالانکہ ایک ٹیکہ کو تیار کرنے کیلئے عالمی سطح پر ر ٹرائلز جاری ہیں۔ بی بی سی کے مطابق متاثرہ نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ہوش کھو دیا اور جب وہ جاگ گئیں تو وہ اپنے پاؤں کو ایک ساتھ بندھے اور اعضائے مخصوصہ میں درد کے احساس سے حیران تھیں۔

مصرف میں FGM کو 2016 میں غیر قانونی بنایا جاچکا ہے

female genital mutilation کو مصر میں ایک غیر قانونی ضرم قرار دیا جاچکا ہے۔ اس عمل کو انجام دینے کیلئے قصوروار پائے جانے پر ڈاکٹروں کو سات سال تک کی جیل ہو سکتی ہے۔ اس عمل کیلئے درخواست کرنے والے کو تین سال تک کی جیل ہوسکتی ہے۔ حالانکہ اس بارے میں ابھی تک قانون کے تحت کسی پر بھی کامیابی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی نہیں کی گئی ہے۔ خواتین کے حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ جج اور پولیس قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔
First published: Jun 06, 2020 04:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading