ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

اسپتال میں روتی خاتون کو دیکھر کر 85 سالہ بزرگ بولے، میں اپنی زندگی جی چکا ہوں، چھوڑ دیا بیڈ اور خود لگا لئے موت کو گلے

نارائن دابھاڈکر نے کہا، میں اپنی زندگی دیکھ چکا ہوں ان کے چھوٹے۔چھوٹے بچے ہیں جو یتیم ہو جائیں گے۔ یہ بیڈ انہیں دے دیجئے۔ جب نارائن نے ایسا کہا تو ان کا آکسیجن لیول 60 تھا اور انہیں سانس لینے میں کافی تکلیف ہو رہی تھی لیکن ان کے سامنے ڈاکٹرس کی ایک نہیں چلی اور وہ گھر لوٹ گئے ۔ اور اس معاملے کے تین دن بعد نارائن زندگی کی جنگ ہار گئے۔

  • Share this:

کورونا کی اس وبا ء میں جہاں لوگ بچھڑ رہے ہیں ۔ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں اور موت کی اس جنگ میں خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی جان پر دوسروں کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ آر ایس ایس ممبر (Rashtriya SwayamSevak Sangh) ناگپور کے ناراین (Narayan Dabhadkar) نے روتی ہوئی خاتون کو دیکھا تو کہا میرا بیڈ لیلو اور اپنی شوہر کی جان بچاؤ۔ میں نے اپنی زندگی جی لی اور یہ کہتے ہوئے ناراین نے اپنا بیڈ دوسرے کورونا مریض کو دے دیا۔ ناراین خود کورونا پازیٹیو تھے۔ ا یم پی کے سی ایم نے اس واقعہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔ بتادیں کہ نارائن کچھ دن پہلے ہی کورونا سے متاثر ہوئے تھے اور ان کا آکسیجن لیول کم ہونے کے چلتے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انکے داماد اور بیٹی نے انہیں اندرا گاندھی اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ انہیں بھی بیڈ ملنے میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


وہیں اس معاملے کے بعد جب 85 سالہ بزرگ  ناراین (Narayan Dabhadkar) نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا اور کورونا سے زندگی کی جنگ ہارنے کے بعد ان کی موت ہوگئی۔  ا یم پی کے سی ایم نے ان کی اس قربانی کو لیکر  ٹویٹ کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔




گزشتہ دنوں ایک خاتون اپنے چالیس سالہ کورونا سے متاثر شوہر کیلئے بیڈ ڈھونڈھتے ہوئے اسپتال پہنچی تھی۔ بیڈ نہیں ملنے پر خاتون اپنے شوہر کیلئے بے پناہ رو رہی تھی۔ خاتون کا رونا سن کر نارائن اپنے بیڈ سے اٹھ گئے اور انہوں نے ڈاکٹرس کو بلا کر کہا کہ وہ گھر جا رہے ہیں اور ان کا بیڈ اس شخص کو دے دیا جائے۔ نارائن دابھاڈکر نے کہا، میں اپنی زندگی دیکھ چکا ہوں ان کے چھوٹے۔چھوٹے بچے ہیں جو یتیم ہو جائیں گے۔ یہ بیڈ انہیں دے دیجئے۔ جب نارائن نے ایسا کہا تو ان کا آکسیجن لیول 60 تھا اور انہیں سانس لینے میں کافی تکلیف ہو رہی تھی لیکن ان کے سامنے ڈاکٹرس کی ایک نہیں چلی اور وہ گھر لوٹ گئے ۔ اور اس معاملے کے تین دن بعد نارائن زندگی کی جنگ ہار گئے۔

وہیں کورونا بحران کے اس دور میں تقریبا دوہزار رضاکار کورونا متاثرین کے لئے کھانے، آکسیجن،بلڈ پلازما کے انتظامات میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ یہ رضا کار کانگریس لیڈر سلمان نظامی کی نگرانی میں مختلف این جی اوز اور یوتھ کانگریس کے تعاون سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان رضاکاروں نے دہلی، جموں کشمیر،اترپردیش،مہاراشٹر ودیگر کووڈ سے متاثرہ ریاستوں میں کنٹرول روم قائم کر رکھا ہے اور اس کے تحت یہ لوگ ضرورت مندوں کی مدد کررہے ہیں۔نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر سلمان نظامی نے کہا کہ ہم لوگ بلا لحاظ مذہب وملت یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 28, 2021 09:33 PM IST