உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron: نئےبرس کےشروع میں کووڈ۔19کی تیسری لہرکاخدشہ، فروری میں کوروناکیس پہنچ سکتےہیں عروج پر!

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    پروفیسر ودیا ساگر آئی آئی ٹی حیدرآباد (IIT Hyderabad) کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کووڈ کی تیسری لہر کے دوران روزانہ انفیکشن کا خطرہ دوسری لہر کی طرح نہیں ہوگا۔ ساگر نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسین پروگرام کو فرنٹ لائن ورکرز کے علاوہ عام لوگوں تک بڑھایا جائے۔

    • Share this:
      نیشنل کووڈ۔19 سپر ماڈل کمیٹی (National Covid-19 Supermodel Committee) کے ارکان کے مطابق ہندوستان میں یقینی طور پر کورونا وائرس (COVID-19) کی تیسری لہر آئے گی، کمیٹی نے نئے برس کے شروع میں کووڈ۔19 کی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس دوران کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون (Omicron) کے بھی کیس غیر معمولی انداز میں سامنے آسکتے ہیں۔ جس نے ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی آگے بڑھ کر اپنی خطرناکی کا اظہار کیا ہے۔

      کووڈ۔19 سپر ماڈل پینل کے سربراہ ودیا ساگر نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’’اومی کرون کی وجہ سے آنے والی تیسری لہر اگلے سال کے اوائل میں یا فروری میں عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ ودیا ساگر نے کہا ہے کہ تیسری لہر ہندوستان میں اگلے سال کے اوائل میں آنے کا امکان ہے۔ یہ دوسری لہر سے ہلکی ہونی چاہئے کیونکہ ملک میں اب بڑے پیمانے پر مدافعت موجود ہے۔ تیسری لہر یقینی طور پر آئے گی۔ اس وقت تقریباً 7,500 کیس سامنے آسکتے ہیں۔ اومی کرون نے ڈیلٹا پر ایک غالب شکل کے طور پر غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ اس کے کیسز فی دن بڑھنا یقینی ہے‘‘۔

      پروفیسر ودیا ساگر آئی آئی ٹی حیدرآباد (IIT Hyderabad) کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کووڈ کی تیسری لہر کے دوران روزانہ انفیکشن کا خطرہ دوسری لہر کی طرح نہیں ہوگا۔ ساگر نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسین پروگرام کو فرنٹ لائن ورکرز کے علاوہ عام لوگوں تک بڑھایا جائے۔

      ہندوستان میں سیروپریویلنس ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے آئی آئی ٹی کے پروفیسر نے مزید کہا کہ ’’عوام کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ کورونا وائرس سے محفوظ ہے لیکن انھیں بھی کورونا کا خطرہ لاحق ہے۔ لہذا تیسری لہر میں دوسری لہر کی طرح روزانہ کی بنیاد پر زیادہ کیسز نہیں سامنے آئیں گے۔ ہمیں اس تجربے کی بنیاد پر اپنی صلاحیت بڑھانا ہوگا۔ اس لیے ہمیں بغیر کسی دشواری سے نمٹنے کے قابل ہونا چاہیے‘‘۔

      ودیا ساگر نے کہا کہ کیسز کی تعداد کا انحصار اومی کرون کی ویکسین سے پیدا ہونے والی قوت مدافعت اور وائرس سے پہلے کی نمائش سے قدرتی استثنیٰ سے بچنے کی صلاحیت پر ہوگا۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: