உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عالمی ادارہ صحت کا انتباہ! نازک موڑ پر کھڑی ہے دنیا، Omicron آخری variant نہیں ہوگا۔۔۔۔

    Coronavirus Omicron News:  حالانکہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئس نے یقین دلایا کہ COVID-19 گلوبل ہیلتھ ایجنسی اور "وبائی بیماری کا شدید مرحلہ" اس سال ہی ختم ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے تمام ممالک کی جانب سے حکمت عملیوں اور آلات کے جامع استعمال کی ضرورت ہوگی۔

    Coronavirus Omicron News: حالانکہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئس نے یقین دلایا کہ COVID-19 گلوبل ہیلتھ ایجنسی اور "وبائی بیماری کا شدید مرحلہ" اس سال ہی ختم ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے تمام ممالک کی جانب سے حکمت عملیوں اور آلات کے جامع استعمال کی ضرورت ہوگی۔

    Coronavirus Omicron News: حالانکہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئس نے یقین دلایا کہ COVID-19 گلوبل ہیلتھ ایجنسی اور "وبائی بیماری کا شدید مرحلہ" اس سال ہی ختم ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے تمام ممالک کی جانب سے حکمت عملیوں اور آلات کے جامع استعمال کی ضرورت ہوگی۔

    • Share this:
      نئی دہلی. دنیا کے تمام ممالک اس وقت اومیکرون (Omicron) کے کیسز میں اضافے سے جوجھ رہے ہیں جو کووڈ-19 کی ایک بہت ہی خطرناک قسم ہے۔ دریں اثنا، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل، سربراہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئس نے کہ نے پیر کے روز کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں جو مزید مختلف ویرئنٹ کو ابھرنے میں میں مدد کریں گے۔ یہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کووڈ-19 کے دیگر اسٹرین کے پنپنے کے قریب ہے۔

      عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) کے سربراہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئس نے کہا کہ اومیکرون کے معاملوں میں اضافے کے بعد سے دنیا بھر میں دنیا بھر میں 8 کروڑ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ سال 2020 میں آئے کل کیسز سے زیادہ ہیں، WHO کے سربراہ نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جاری وبا میں ابھرنے والا یہ آخری کووڈ 19 ویریئنٹ نہیں ہوگا۔ حالانکہ ٹیڈروس اڈانوم گیبریئس نے یقین دلایا کہ COVID-19 گلوبل ہیلتھ ایجنسی اور "وبائی بیماری کا شدید مرحلہ" اس سال ہی ختم ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے تمام ممالک کی جانب سے حکمت عملیوں اور آلات کے جامع استعمال کی ضرورت ہوگی۔

      WHO ان باتوں پر دیا زور
      اس مقام کو حاصل کرنے کے لیے، انہوں نے کہا کہ ممالک کو اپنی آبادی کے کم از کم 70 فیصد کو ویکسین دینے کا ہدف رکھنا چاہیے، جس میں اعلیٰ ترجیحی گروپوں جیسے بزرگ، بالغ افراد، صحت کے کارکنوں اور کمزور افراد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ٹیڈروس نے مزید کہا کہ ممالک کو COVID-19 ٹیسٹنگ کو فروغ دینے، مستقبل میں مزید مختلف ویریئنٹ تلاش کرنے اور وبائی امراض سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ بحران کے ختم ہونے کا انتظار کرنے کی ۔

      خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایجنسی کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "کووڈ-19 کی وبا اب تیسرے سال میں داخل ہو رہی ہے اور ہم ایک نازک موڑ پر ہیں، ہمیں اس وبا کے شدید مرحلے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ۔" ہمیں اس کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: