உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بوسٹر ڈوز پر ماہرین کی نہیں بن پائی متفقہ رائے، پینل نے کہا- Omicron پر ابھی نظر رکھنے کی ضرورت

    کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز پر ماہرین کیوں نہیں ہوپائے متفق؟

    کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز پر ماہرین کیوں نہیں ہوپائے متفق؟

    کورونا ویکسین کے بوسٹر ڈوز کے لئے این ٹی اے جی آئی نے اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے، جو بتاتا ہے کہ ملک میں کورونا کے انفیکشن کا خطرہ کافی زیادہ ہے۔ حالانکہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ سب سے پہلے ہیلتھ ورکرس کو بوسٹر ڈوز دیا جانا چاہیے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس (Coronavirus) کے اومیکرون ویرینٹ (Omicron Variant) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ملک میں اومیکرون ویرینٹ کے 23 نئے معاملے سامنے آچکے ہیں۔ کورونا کے نئے کیسیز سامنے آنے کے بعد ملک میں ایک بار پھر کورونا ویکسین (Corona Vaccine) کی بوسٹر ڈوز (Booster Dose) کو لے کر بحث تیز ہوئی ہے۔ کورونا کی بوسٹر ڈوز کو لے کر کل نیشنل امیونیزیشن ٹیکنیل ایڈوائزری گروپ (NTAGI) کی میٹنگ ہوئی لیکن ماہرین کا پینل کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ بتادیں کہ این ٹی اے جی آئی کی میٹنگ میں اس بات پر فیصلہ لیا جانا تھا کہ کیا زیادہ خطرہ والے لوگوں کو بوسٹر ڈوز دی جائے یا نہیں۔ این ٹی اے جی آئی سے جڑے ایک عہدیدار نے بتایا کہ این ٹی اے جی آئی کی جانب سے ابھی تک کوئی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ ابھی ہماری کوشش ہے کہ کمزور بچوں کے لئے جلد سے جلد ویکسین کو منظوری دی جائے۔ ہم اُمید کررہے ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک اس تعلق سے کوئی گائیڈلائنس جاری کیے جاسکتے ہیں۔

      ذرائع کے مطابق کورونا ویکسین کے بوسٹر ڈوز کے لئے این ٹی اے جی آئی نے اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے، جو بتاتا ہے کہ ملک میں کورونا کے انفیکشن کا خطرہ کافی زیادہ ہے۔ حالانکہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ سب سے پہلے ہیلتھ ورکرس کو بوسٹر ڈوز دیا جانا چاہیے۔ فرنٹ لائن ورکرس کے ساتھ بزرگوں کو بھی بوسٹر ڈوز دیا جانا چاہے جنہیں سب سے پہلے ویکسین لگائی گئی تھی۔ ان سبھی لوگوں کو ویکسین لگا کر کافی زیادہ وقت ہوچکا ہے اور اُن کے انفیکٹیڈ ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔
      بتادیں کہ عالمی ادارہ صحت کے سائنٹسٹ ایڈوائزری بورذ کی اہم میٹنگ ہونے والی ہے، جس میں اُن لوگوں کے لئے بوسٹر ڈوز کے ایشو پر غور کیا جائے گا، جو زیادہ انفیکشن کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے صرف اس لئے جلد بازی میں نہیں لیے جاسکتے کیونکہ اومیکرون ایک نیا ویرینٹ ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ویکسین لگوانے کے بعد نوجوانوں میں قوت مدافعت کا لیول ابھی بھی بہت اچھا ہے۔

      ابھی تک اومیکرون کی ہلکی علامت ہی دکھائی دی ہے
      ہندوستان میں بھی کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے کیس بڑھ رہے ہیں۔ اب تک ملک میں اس نے ویرینٹ کے 23 کیس مل چکے ہیں۔ میدانتا کے چیئرمین ڈاکٹر نریش تریہن نے کہا ہے کہ، ہمیں لگ رہا ہے کہ جن لوگوں کو اومیکرون ویرینٹ کا انفیکشن ہوا ہے، اُن میں علامت آج تک ہلکے ملکے ہیں۔ اُن کو کوئی بہت زیادہ بخار نہیں ہے۔ کوئی زیادہ تکلیف نہیں ہے۔ سانس لینے میں بھی پریشانی نہیں ہے۔ اس میں ہاسپٹل میں آنے کی ضرورت بہت کم پڑ رہی ہے اور لوگوں کا علاج گھر پر ہی ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’جو اومیکرون سے متاثر پائے جارہے ہیں، اُن کو آئیسولیٹ کیا جارہا ہے تا کہ دوسروں میں یہ ویرینٹ نہ پھیلے۔ ‘

      اومیکرون ویرینٹ کے کیا ہیں علامات؟
      بہت زیادہ تھکان
      ہلکا سردرد
      پورے بدن میں درد
      گلے میں خراش
      سوکھی کھانسی

      ساؤتھ افریقہ کے ڈاکٹرس نے اومیکرون سے متاثرہ مریضوں میں زیادہ تھکان، پٹھوں میں درد، گلے میں خراش اور سوکھی کھانسی جیسی علامات پر غور کیا۔ کچھ مریضوں میں تیز بخار بھی دیکھا گیا ہے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: