ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں میں تقریبا 300 غیر مقامی مزدور پھنسے، انتظامیہ کی مدد کے منتظر

بتادیں کہ یہ مزدور جموں ریلوے اسٹیشن کے نزدیک سامانوں کو ڈھونے اور اتارنے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ مزدور اب بے روزگار ہیں اور انہیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

  • Share this:

انتظامیہ اور این جی اوز کی جانب سے غیر مقامی درماندہ مزدوروں کی مدد کی جارہی ہے۔ تاہم کچھ ایسے بھی مزدو رہیں جنہیں مدد نہیں مل پارہی ہے۔جموں میں تقریبا تین سو مزدوروں کا ایک ایک گروپ پھنسا ہوا ہے۔ ان مزدوروں میں سے بیشتر کا تعلق اڈیشہ اور اترپردیش سے ہے۔


بتادیں کہ یہ مزدور جموں ریلوے اسٹیشن کے نزدیک سامانوں کو ڈھونے اور اتارنے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ مزدور اب بے روزگار ہیں اور انہیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مزدوروں کی شکایت ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کو کوئی مدد فراہم نہیں کرائی گئی ہے۔ ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ نہ تو ان کے پاس پیسے ہیں اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں ۔ مزدوروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں ان کے آبائی مقام کو بھیجوادیں یا پھر ان کے کھانے پینے کا انتظام کرائیں۔


واضح رہے کہ جموں کشمیر میں لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی جانب سے کمزور طبقات کے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ کمشنر سکریٹری لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ سوربھ بھگت نے اپنے عہدیداروں کے ہمراہ جموں کے مختلف حصوں میں غیر مقامی مزدوروں میں کھانے کی اشیاء اور ماسک تقسیم کیے۔ سوربھ بھگت نے اس موقع پر مزدوروں کا حوصلہ بھی بڑھایا کہ وہ ہمت نہ ہاریں اور کسی بھی وقت کسی مدد کی ضرورت پڑنے پر مختلف سرکاری ایجنسیوں سے رجوع کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے انہوں نے سوشل ڈسٹنسنگ برقرار رکھنے اور گھر پر رہنے کی بھی تاکید کی۔

First published: Apr 09, 2020 09:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading