ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لاک ڈاون : بھیونڈی میں لاکھوں پاورلوم مزدور پریشان حال ، دووقت کے کھانے کا انتظام بھی ہوا مشکل

بھیونڈی پاور لوم بنکر تنظیم کے ترجمان کے مطابق بھیونڈی میں بارہ لاکھ سے زیادہ پاور لومس ہیں جو ملک میں خام کپڑے کی پیدوار کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں ۔

  • Share this:
لاک ڈاون : بھیونڈی میں لاکھوں پاورلوم مزدور پریشان حال ، دووقت کے کھانے کا انتظام بھی ہوا مشکل
بھیونڈی میں لاکھوں پاورلوم مزدور پریشان حال ، دووقت کے کھانے کا انتظام بھی ہوا مشکل

ممبئی سے پچاس کلو میٹر کی دوری پر واقع بھیونڈی شہر، جسے پاور لوم صنعت کی وجہ سے ہندوستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے ، کے مزدور بھوک سے جنگ لڑرہے ہیں ۔ 21 روز کے قومی لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کے بعد اتر پردیش ، بہار، بنگال اور جھاڑکھنڈ جیسی ریاستوں سے روز گار کیلئے ہجرت کر کے بھیونڈی آنے والے پاورلوم مزدوروں کی بڑی آبادی دو وقت کھانے کی محتاج ہے ۔ بھونڈی میں کورونا وائرس مرض سے ابھی تک صرف ایک ہی شخص متاثر پایا گیا ہے ۔


بھیونڈی شانتی نگر میں قیام پذیر پاور مزوروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہاجر مزدوروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بھیونڈی شہر کے تمام ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہیں ، وہیں کھانے کی بھیسیوں پر بھی تالا پڑا ہوا ہے ۔ مقامی سماجی کارکن کامریڈ اسرار احمد کا کہنا کہ قومی لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاورلوم مالکان کی بھی معاشی حالت خراب ہے ، ایسے میں اکثر مالکان نے پاورلوم مزدوروں کو اخراجات دینے سے انکار کردیا ۔ کچھ پاورلوم مالکان ہی مزدوروں کی معاشی مدد کرپا رہے ہیں ۔ سماجی تںطیموں کے ذریعہ پاورلوم مزدوروں کو کھانا بانٹا جارہا ہے ۔


بھیونڈی کے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے شہر کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش ، بہار اور بنگال سے تعلق رکھنے والے پاور لوم مزدروں کی بڑی تعداد اپنے آبائی وطن جانا چاہتی ہے ۔ کیونکہ ان مزدوروں کو اس بات کا یقین ہے کہ لاک ڈاؤن کھلنے کے فورا بعد بھیونڈی پاور لوم صنعت کا دوبارہ پٹری پر آنا مشکل ہے ۔ کئی بنکروں کے پاس اتنا سرمایہ بھی نہیں کہ وہ چالیس دنوں تک مزوروں کو سنبھال سکیں ۔ جو سماجی تنظیمیں مزدوروں کو دو وقت کا کھانا فراہم کررہی ہیں ، انہیں مرکزی و ریاستی سرکار کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل پارہی ہے ۔


بھیونڈی پاور لوم بنکر تنظیم کے ترجمان کے مطابق بھیونڈی میں بارہ لاکھ سے زیادہ پاور لومس ہیں جو ملک میں خام کپڑے کی پیدوار کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں ۔ ان پاورلومز پر پانچ لاکھ سے زیادہ مزدور کام کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی کھولیوں میں رہتے ہیں ۔ مزدور طبقہ نہ سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھ پارہا ہے اور نہ ہی اپنا پیٹ بھر پارہا ہے ۔ پاور لوم صبعت پر نگاہ رکھنے والے افراد ماننا ہے کہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد مزدوروں کی بڑی تعداد اپنے وطن ہجرت کریگی ایسے میں مزدوروں کی کمی کی وجہ سے پاورلوم صنعت کو دوسرے شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑے گا ، جو صنعت کیلئے بڑے خسارے کا سبب بن سکتا ہے ۔
First published: Apr 16, 2020 09:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading