உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: تحقیق میں دعویٰ، کوروناوائرس نے پھر بدلی خطرناک شکل، سیدھے پھیپھڑوں پر کررہاہے حملہ

    کورونا کی وجہ سے لوگوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاون کو بڑھا دیا گیا ہے۔ فائل فوٹو

    کورونا کی وجہ سے لوگوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاون کو بڑھا دیا گیا ہے۔ فائل فوٹو

    سائنسدانوں کے مطابق وائرس کافی حد تک SARSCoV وائرس جیسا ہوگیا ہے جس نے دس سال پہلے تقریبا 800 لوگوں کی جان لے لی تھی اور 8 ہزار سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے اور انہیں کافی نقصان پہنچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق A2a وائرس کا تیزی سے ٹرانس مشن ہوتا ہے اور کووڈ-19 کا یہ ٹائپ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔

    • Share this:
    چین  (China) سے دنیا بھر میں کوروناوائرس (Coronavirus) تیزی سے پھیل رہاہے دسمبر 2019 کو چین کے ووہان(Wuhan) میں جب کورونا کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا تب سے لیکر ابھی تک اس وائرس کی زد میں آنے سے 30 لاکھ سے زیادہ لوگ بیمار پڑ چکے ہیں۔ جبکہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ان سب کے درمیان ایک بڑی اور اہم خبر آرہی ہے کہ اس مہلک بیماری نے خود میں بڑی تبدیلی کرلی ہے۔ بتادیں کہ کوروناوائرس نے اب تک 10 الگ۔الگ طرح کی تبدیلیاں کی ہیں۔ انہی تبدیلیوں میں سے ایل ہے A2a۔ سائنسدانوں نے تحقیق  (c) میں پایا ہے کہ A2a ٹائپ وائرس پہلے وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور پوری دنیا میں اسی وائرس کے چلتے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بایو میڈیکل جنومکس بنگال (NIBG) کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ A2a  وائرس اب پوری دنیا میں اپنا قبضہ جمع چکا ہے۔ تحقیقی کے مطابق وائرس کی یہ تبدیلی اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ سیدھے انسان کے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے جس سبب انسان کے بچنے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔
    سائنسدانوں کے مطابق وائرس کافی حد تک SARSCoV  وائرس جیسا ہوگیا ہے جس نے دس سال پہلے تقریبا 800 لوگوں  کی جان لے لی تھی اور 8 ہزار سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے اور انہیں کافی نقصان پہنچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق A2a   وائرس کا تیزی سے ٹرانس مشن ہوتا ہے اور کووڈ-19 کا یہ ٹائپ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔
    کرونا وائرس کی یہ تبدیلی سائنسی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو ویکسین بنانے میں مدد ملے گی۔ تحقیق کے مطابق ، گزشتہ لے 4 مہینوں میں 10 قسم کے کورونا وائرس پائے گئے ہیں۔

    Published by:sana Naeem
    First published: