உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کووڈ ۔19 لاک ڈاؤن: حج سفر 2020 کو لے کر آئی یہ بڑی خبر

    فائل فوٹو

    حج کے سفر کا آغاز جون کے پہلے ہفتے سے 2020 میں ہونا ہے۔ عازمین حج کی پہلی پرواز اسی ہفتے میں روانہ ہوگی ، لیکن موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستان سے لے کر مکہ اور مدینہ تک کی تیاریاں زیرو لیبل پر ہیں۔

    • Share this:
    نئی دہلی۔ حج کے سفر کا آغاز جون کے پہلے ہفتے سے 2020 میں ہونا ہے۔ عازمین حج کی پہلی پرواز اسی ہفتے میں روانہ ہوگی ، لیکن موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستان سے لے کر مکہ اور مدینہ تک کی تیاریاں زیرو لیبل پر ہیں۔ تیاریوں کے نام پر ابھی تک صرف عازمین حج کا کوٹہ جاری کیا گیا ہے۔ رہائش کے لئے ابھی بلڈنگ بھی نہیں دیکھی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کا بھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ وہیں، جن عازمین کے نام قرعہ اندازی میں آئے ہیں ان میں بھی بےچینی ہے۔ ایسے عازمین یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر وقت پر ہمارے پیسے جمع نہیں کیے گئے تو کہیں ہمارا نام نہ کٹ جائے۔

    حج کمیٹی آف انڈیا نے یہ ہدایت دی

    حج کمیٹی آف انڈیا کے ممبر ڈاکٹر افتخار احمد جاوید نے نیوز 18 کو بتایا کہ حج سفر 2020 سے متعلق کوئی کام کورونا سے بچاو کے لئے جاری مہم اور لاک ڈاؤن کے پیش نظر نہیں ہو پا رہا ہے۔ جن عازمین میں ایسی بےچینی ہے کہ وہ سفر کی دوسری قسط بینکوں میں کیسے جمع کریں تو ایسے لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ رقم آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر افتخار نے کسی کو بھی گھر سے نہ نکلنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تیسری قسط جمع کرنے کا وقت آجائے تو بیک وقت دونوں قسطوں کو جمع کروائیں۔ ابھی کسی طرح کی جلدی نہ دکھائیں۔ ابھی صرف گھروں میں ہی بیٹھ کر ملک اور  عوام کے لئے دعا کریں۔


    ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ عازمین کے کوٹے کے مطابق سب سے پہلے عمارتوں کا انتخاب ان کی رہائش کے لئے کرنا ہوتا ہے۔ پھر اہنے حساب سے اس عمارت میں کچھ کام کروانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اگر عازمین میٹرو اور بس کے ذریعے سفر کرتے ہیں تو پھر ان کے لئے بھی معاہدہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بنائے جاتے ہیں۔ منیٰ کی بھی تیاری کی جاتی ہے۔ ابھی تک صرف عازمین کے کوٹے کے معاملے میں حکومت سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ  کوئی دوسرا معاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔

    ناصر حسین کی رپورٹ
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: