ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی حکومت نے کووڈ19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر عیدالاضحیٰ کے دوران مسجد الحرام کو بند رکھنے کا کیافیصلہ، کہا۔ عازمین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات

سعودی عرب حکومت نے عیدالاضحیٰ کے دوران مسجد الحرام کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا اور اس سلسلے میں سعودی حکام کا کہنا ہےکہ رواں سال حج کی تیاریوں میں عازمین کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • Share this:

سعودی عرب حکومت (Saudi Arabia) نے عیدالاضحیٰ ( Eid ul Azha 2020 ) کے دوران مسجد الحرام (masjid al haram) کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کورونا وائرس (Covid-19 pandemic) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا اور اس سلسلے میں سعودی حکام کا کہنا ہےکہ رواں سال حج (Hajj 2020) کی تیاریوں میں عازمین کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مسجد الحرام کی سکیورٹی پر مامور فورسز کے کمانڈر میجر جنرل محمد ال احمدی نے کہا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس (Coronavirus) کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے اس سال بنیادی طور پر صحت کے پہلو پر توجہ مرکوز کی ہے اور اس سلسلے میں باقی مراحل پر آئندہ دنوں میں عملدرآمد کیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق میجر جنرل محمد ال احمدی نے مسجد الحرام  (masjid al haram) میں داخلے اور باہر نکلنے کے دوران عازمین کو کنٹرول کرنے کے لیے سماجی فاصلے (social distancing)  اور کوروناوائرس (Coronavirus) سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کے نئے انتظامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کعبہ اور صفا مروہ کے درمیان عبادات کے لیے راستوں کا بھی تعین کردیا گیا ہے جب کہ مسجد الحرام کے احاطے میں صرف ان لوگوں کو داخلے کی اجازت ہوگی جن کے پاس آفیشل اجازت نامہ ہوگا۔

سکیورٹی کمانڈر کا کہنا تھا کہ کورونا وبا (Covid-19 pandemic) کے باعث عازمین کے لیے مسجد الحرام   (masjid al haram)  ،عرفہ کے روز اور عید (Eid ul Azha) کے دوران بند رہے گی جب کہ مسجد اور اس کے بیرونی احاطے میں نمازوں کی ادائیگی بھی معطل رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ عرفات کے روز اپنا روزہ گھروں پر ہی افطار کریں۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب (Saudi Arabia) نے اس سال محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا ہے۔


قابل غور ہے کہ  کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب صنعت و تجارت کے شعبے ہی نہیں بلکہ مذہبی مقامات بھی مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ سماجی فاصلے کی پاسداری کیلئے مذہبی مقامات کو بند کرنے کے فیصلے کے سبب مساجد اور مندر اور درگاہوں کے ٹرسٹ کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ ررہا ہے۔ مسلسل مذہبی مقامات پر پابندی کی وجہ سے مساجد کے امام و خطیب موذن اور یہاں کے عملے کی تنخواہ بمشکل ہی ادا کی جارہی ہے۔ یعنی کورونا کے دور میں مذہبی مقامات سے جڑے افراد کے سامنے یہ ایک مشکل وقت ہے۔


گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے ریکارڈ 45 ہزار معاملے سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ لوگوں کی تعداد 12.38 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور اس مدت کے دوران سب سے زیادہ 1129 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تعداد اموات 29861 ہوگئی ہے۔ صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا انفیکشن کے 45720 کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1238635 ہوگئی اور اسی مدت کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 29861 ہوگئی۔ اس عرصے کے دوران 29557 مریض صحت مند بھی ہوئے ہیں۔ اب تک 782607 افراد کو کورونا سے راحت ملی ہے۔ ایک دن میں پہلی بار 29557 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس وقت ملک میں کورونا انفیکشن کے 426167 فعال معاملے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 23, 2020 08:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading