ہوم » نیوز » عالمی منظر

غلطی سے wuhan lab سے کوروناوائرس ہو گیا تھا لیک، تیسری عالمی جنگ کی تیاری کیلئے Coronavirus پر 2015 سے چین کر رہا تھا ریسرچ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ جینٹیک اسلحوں سے لڑی جائے گی۔ میڈیا رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہے غلطی سے ووہان لیب (wuhan lab) سے کورونا وائرس لیک ہو گیا تھا ۔

  • Share this:

کورونا وائرس وبا کے حوالے سے آسٹریلیا Australia کے میڈیا نے بڑادعویٰ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ میں چین China پر سنگین الزام لگائے گئے ہی ۔جس کے مطابق چین دوہزار پندرہ (2015)سے کورونا وائرس پر ریسرچ کر رہا تھا۔ دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس Coronavirus کو چین ہتھیار بنانے پر چینی سائنسدانوں نے تبادلہ خیال کیا تھا ۔جینیٹک بایوٹک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ جینٹیک اسلحوں سے لڑی جائے گی۔ میڈیا رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہے غلطی سے ووہان لیب (wuhan lab) سے کورونا وائرس لیک ہو گیا تھا ۔وہیں چین کے ترجمان گلوبل ٹائمس نے آسٹیرلیائی Australiaمیڈیا کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ گلوبل ٹائمس کے مطابق یہ جھوٹا دعویٰ ایک کتاب پر مبنی ہے۔


کورونا وائرس Coronavirus کی اصل شروعات کو لیکر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اس کیلئے چین China کی ووہان لیب (Wuhan Lab) کئی بار نشانے پر آئی لیکن چین مسلسل انکار کرتا رہا لیکن ایک انگریزی اخبار نے ایک ایسا انکشاف کیا جس سے ہر کوئی حیران ہے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چینی فوج کے کئی خفیہ پروجیکٹ میں ووہان لیب نے مدد کی۔ ساتھ ہی ان کیلئے کئی جانوروں (Animals) کے خطرناک وائرس بھی کھوجے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ نو سال سے لیب سائنسداں نئے وائرس کی کھوج اور بیماری پھیلانے میں شامل حیاتیات کی سائنس کے ڈارک میٹر پر تحقیق کر رہے تھے۔ اس میں چینی فوجی  (Chinese Army) افسر بھی شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ سال جنوری میں ایک چینی سائنسداں نے جنرل شائع کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ تین سال میں یہاں پر 143 نئی بیماریوں کی کھوج کی گئی ہے۔


چین کے ووہان لیب سائنسدانوں نے جانوروں کے وائرس کھوجنے کیلئے چینی فوج کی مدد کی تھی۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس میں پانچ ٹیم لیڈروں میں شی جھینگلی عرف بیٹ وومن اور ایک سینئر افسر کاؤ ووچن بھی سیمپل کھوجنے کیلئے گوفاؤں میں گئے تھے۔ امریکہ کے وینڈن انسٹی ٹیوٹ آف وائرولاجی کا الزام ہے کہ اس طرح کے وائرس پھیلانے میں چین کے شہری اور فوج دونوں شامل ہیں۔ چین پر پہلے سے ہی الزام ہے کہ ووہان لیب سے کورونا وائرس پھیلا ہے لیکن چین اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اب عالمی ادارہ صحت نے بھی صاف کر دیا کہ ووہان لیب سے کورونا نہیں پھیلا ہے بلکہ یہ کسی جانور سے انسان تک پہنچا ہے۔


غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ، برطانیہ سمیت بارہ دیگر ممالک نے چین سے اس وبا کے نموبے کو شیئر کرنے کی اپیل کی تھی لیکن بیجنگ نے اسے خارج کر دیا جس کے بعد چین کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ بتادیں کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ووہان لیب میں نیا وائرس کے بارے میں بہت پہلے ہی اطلا ع دے دی تھی۔ . محکمہ خارجہ نے کورونا سے ہفتوں پہلے بتایا تھا کہ چین سمیت دنیا میں ایک نیا وائرس تباہی مچا دے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 10, 2021 01:03 PM IST