ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں کوروناکو ہے ہرانا:سرینگر میونسپل کارپوریشن کئی محازوں پرکررہا ہےکام، یہاں پڑھیں تفصیل

کشمیر میں وقت پر پابندیوں کو نافذ کیا گیا تھا اور ایک مہینہ پہلے کورونا کے لئے درکار سامان کے لئے بھی قواعد شروع کی گئی تھی جس کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوں سے مشینری حاصل کرنا آسان رہا۔

  • Share this:
کشمیر میں کوروناکو ہے ہرانا:سرینگر میونسپل کارپوریشن کئی محازوں پرکررہا ہےکام، یہاں پڑھیں تفصیل
سرینگر کے اسپتالوں میں سیناٹایزیشن ٹنل لگا دی گئی ہے

کشمیر اب تک ملک میں کورونا سے مقابلہ کرنے کے لیے درکارساز و سامان کی لئے لحاظ سے بہتر مقام پر بتایاجارہا ہے۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے پاس ابھی وائرس کو مارنے اور پھیلنے سے روکنے کے لئے ایسا سامان آچکا ہے۔ جس ملک میں بہتر تصور کیا جا رہا ہیں،ان باتوں کا اظہار ایس ایم سی کمشنر غضنفر علی نے نیوز18 سے بات چیت کے دوران کیا۔وہی پرانی کہاوت ہےٖضرورت ایجاد کی ماں ہے یہ کہاوت کشمیر میں درست ثابت ہو رہی ہے کشمیر میں جاری کورونا کے قہر کا مقابلہ سڑکوں پر پولیس ،اسپتالوں میں ڈاکٹر اور طبعی عملہ کررہا ہے وہی گرونواح کو آلودگی صاف پاک رکھنے کے لئے سرینگر میونسپل کارپوریشن کئی محازوں پر کام کررہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسپتالوں اور ریڈ زونوں میں سیناٹازیشن وہیں دوسری اور بیولاجیکل کچرا کو ٹھکانے لگانا بھی شامل ہے ۔ کشمیر میں وقت پر پابندیوں کو نافذ کیا گیا تھا اور ایک مہینہ پہلے کورونا کے لئے درکار سامان کے لئے بھی قواعد شروع کی گئی تھی جس کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوں سے ۔ مشینری حاصل کرنا آسان رہا


سرینگر میونسپلٹی کی میکنیکل وونگ نے بھی کئی تجرنے کئے ہے۔جس کی وجہ سے میونسپل عملہ زمیں پر آسانی سے کام کر رہا ہے کارپوریشن نے سنیتیزیشن ٹنلس بنائی۔ سرینگر کے اسپتالوں میں سیناٹایزیشن ٹنلک لگا دی گئی ہے جو اسپتال کے اند اور باہر جانے والوں کو کاٹنیری کیمیکل کمپاونڈ کا چھڑکاؤ کر دیتا ہے۔ جس سے اگر کسی شخص کے کپڑوں پر یا جسم پر وائرس ہو تو وہ ختم ہو جاتا ہے،سرینگر کے مئیر جنید اعظم متو کا کہنا ہے کہ اس میں جو کیمیکل استعمال ہو رہا ہے وہ پہلے ہی ڈاکٹروں اور جانکار عملے کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے وہیں جنید نے کہا کہ اس کہ اثر جلد پر بھی پہلے ٹیسٹ کیا گیا ہے۔کارپوریشن کے پاس شہر کو وائرس سے محفوط رکھنے اور اسکو پھلنے سے روکنے کے لئے سوڈیم ہوپو کرورایڈ ،ہاڈروجن پراکسایڈ اور سلور نایٹریٹ استعمال کررہے ہیں۔سرینگر میں سبھی سرکاری اسپتالون میں ایسے ٹنل لگا دی گئی ہے اور آئندہ دونوں میں اب کارپوریشن پرائیویٹ اسپتالوں میں یہ لگانے کا رہی ہے۔


اس وقت کورونا کا مقابلے میں لگے ہے اور روز مرہ کا کام کافی متاثر بھی ہوا ہے۔ ایسے میں سرینگر کا بون اینڈ جوانٹ اسپتال اس ماحول میں ٹروما کیسز لے رہا ہے اور ایسے میں یہاں کے عملے اور یہاں آنے والوں کے لئے یہ ٹنل انکو کورونا سے بچاؤ کرانے کا احساس کراتا ہے۔سہیل احمد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بون ایند جوانٹ اسپتال کا کہنا تھا کی یہاں ہر روز ہزاروں کے تعداد میں مریض اور انکی ساتھ تیماردار آتے ہیں ایسے میں کون کورونا کا کیریئر آئے کسی کو نہیں پتہ چل سکے اور اب جبکہ ایسے ٹنل یہاں نصب کی گئی ہے اسکی وجہ سے ڈاکٹروں کے علاوہ یہاں پر آنے والوں کے لیے یہ بچاؤ ہےلاک ڈاؤن جاری ہے اور وہیں نوول کورونا کا مطلب یہی ہے کہ یہ نیا وائرس ہے یہ کونسی کروٹ لیتا ہے۔ یہ ابھی کوئی بول نہیں سکتا مگر اگر لوگ اس لاک ڈاؤن کا احترام کرتے ہے اور اپنے گھروں میں بیٹھے تو اس کو قابو پایا جاسکتا ہے۔لوگ اپنے گھروں میں رہ کر نہ صرف خود کو بلکہ اپنے آس پاس اور اپنے اہل خانہ کو اس وبا سے دور رکھ رہے ہیں۔

First published: Apr 13, 2020 11:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading