ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا معاملے پر سوشل میڈیا پوسٹ پرسپریم کورٹ کا حکم،  آکسیجن کی قلت کے تعلق سے جانکاری پر پوسٹ کرنے پر کارروائی نہ کی جائے

کورونا اور سوشل میڈیا پوسٹ پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت نامہ جاری کیا اور مرکزی اور ریاستی حکومت سے کہا کہ شہریوں کی طرف سے کوئی بھی جانکاری ڈالنے پر کارروائی نہیں ہوگی۔ وہیں آکسیجن کی قلت کے تعلق سے پوسٹ کرنے والوں پر کاروائی نہ کی جائے۔ ساتھ ہی افواہ پھیلانے کے نام پر کاروائی کی تو توہین عدالت کا کیس درج ہوگا۔

  • Share this:

کورونا اور سوشل میڈیا پوسٹ پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت نامہ جاری کیا اور مرکزی اور ریاستی حکومت سے کہا کہ شہریوں کی طرف سے کوئی بھی جانکاری ڈالنے پر کارروائی نہیں ہوگی۔ وہیں آکسیجن کی قلت کے تعلق سے پوسٹ کرنے والوں پر کاروائی نہ کی جائے۔ ساتھ ہی افواہ پھیلانے کے نام پر کاروائی کی تو توہین عدالت کا کیس درج ہوگا۔


اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے دونوں حکومتوں سے پوچھا کہ کووڈ19 ویکسین ملک میں بنی ہے تو اس کی قیمت میں فرق کیوں ہے۔ ساتھ ہی اس پر غور کرنے کی سپریم کورٹ نے ہدایت بھی دی ہے۔سپریم کورٹ نے پوچھا جو لوگ ٹکنالوجی کے استعمال سے واقف نہیں ہے وہ ٹیکہ کاری کے لئے کیسے جڑیں گے۔


قابل غور ہے کہ جہاں اس پھیلتی وبا اور مشکل دور میں لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کرت نظر آرہے ہیں۔ وہ واقعی انسانیت کی ایک مثال ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر بغیر مذہب کی تفریق کئے ایک دوسرے کا سہارا بن دہے ہیں۔ آکسیجن سے لیکر اسپتال میں بیڈ، اور جو ضروری میڈیکل سہولیات ہیں جتنا لوگوں سے بن پڑ رہا ہے وہ کر رہے ہیں۔


دہلی میں بڑھتے کورونا کے کیسوں اور آکسیجن کی کمی کے درمیان دہلی کے نظام الدین میں واقع دمدما صاحب گرودوارہ کے پاس آکسیجن لنگر چلایا جارہا ہے۔ اپنے ضرورت کے حساب سے مریض یہاں پر پہنچ رہے ہیں اور مفت آکسیجن  حاصل کررہے ہیں ۔ وہیں راجدھانی دہلی کے گریٹر کیلاش میں واقع پہاڑی والا گرودوارہ میں آج مفت آکسیجن کی تقسیم کی جارہی ہے۔ آکسیجن کی تقسیم کو دیکھتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں ضرورتمندوں کی ایک لمبی قطار لگ گئی۔اس مفت آکسیجن کا انتظام دہلی کے سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق صدر ایم ایس جی کے ،کی جانب سے کیا گیا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 30, 2021 04:30 PM IST