உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا کے علاج کیلئے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار، امریکہ سمیت 20 ممالک پہلے ہی دے چکے ہیں منظوری

    کورونا کے علاج کیلئے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار، 20 ممالک پہلے ہی دے چکے ہیں منظوری ۔ علامتی تصویر ۔

    کورونا کے علاج کیلئے مصنوعی اینٹی باڈیز تیار، 20 ممالک پہلے ہی دے چکے ہیں منظوری ۔ علامتی تصویر ۔

    امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے 20 ممالک مصنوعی طور پر مونوکلونل اینٹی باڈیز کے ہنگامی استعمال کی پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      جنیوا : یورپین میڈیسن ایجنسی نے کورونا کے علاج کے لئے مصنوعی طور پر تیار اینٹی باڈیز کی مارکیٹنگ کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا۔ مصنوعی تیار کردہ ’مونوکلونل اینٹی باڈیز‘ بارہ سال سے زائد عمر کے افراد میں کورونا کے علاج کے لیے استعمال کی جارہی ہیں ۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے 20 ممالک مصنوعی طور پر مونوکلونل اینٹی باڈیز کے ہنگامی استعمال کی پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔

      دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لیے کووڈ 19 ویکسین کی اضافی خوراک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدافعتی نظام کمزور ہونے کے باعث ایسے افراد میں ویکسینیشن کے بعد بھی بیماری یا بریک تھرو انفیکشن کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ویکسینیشن ماہرین کے اسٹرٹیجک ایڈوائزری گروپ نے کہا کہ کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد میں پرائمری ویکسینیشن کے بعد بھی کووڈ 19 کی سنگین شدت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

      عالمی ادارے کی ویکسین ڈائریکٹر کیٹ اوبرائن نے بتایا کہ ویکسین کی تیسری خوراک کا مشورہ شواہد کی بنیاد پر دیا گیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بریک تھرو انفیکشن کی زیادہ شرح کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں ہی سامنے آئی ہے۔ عالمی ادارے کے پینل نے چینی کمپنیوں سائنو فارم یا سائنو ویک کی تیار کردہ ویکسینز استعمال کرنے والے 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن مکمل کرانے کے ایک سے 3 ماہ بعد اضافی خوراک دینے کا مشورہ بھی دیا۔

      اس کے لیے وسطی امریکی ممالک میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آنے والے شواہد کا حوالہ دیا گیا کہ وقت کے ساتھ ویکسینیشن سے ملنے والا تحفظ کم ہوجاتا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: