ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کوروناہیروز:تبلیغی جماعت ہی انڈیاکوبناسکتی ہےکورونا سے پاک؟اس طرح اراکین کررہے ہیں مدد

مقامی علما ئے کرام اور دیگر سماجی کارکنان ریاست کے مختلف اضلاع کے مرکز میں منعقد ہ اجتماع کے شرکاء کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ خون کا عطیہ اور پلازما تھراپی کرانے کے لئے تیار رضاکاروں کی ایک فہرست تیار کی جاسکیں۔

  • Share this:
کوروناہیروز:تبلیغی جماعت ہی انڈیاکوبناسکتی ہےکورونا سے پاک؟اس طرح اراکین کررہے ہیں مدد
مقامی علما ئے کرام اور دیگر سماجی کارکنان ریاست کے مختلف اضلاع کے مرکز میں منعقد ہ اجتماع کے شرکاء کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ خون کا عطیہ اور پلازما تھراپی کرانے کے لئے تیار رضاکاروں کی ایک فہرست تیار کی جاسکیں۔

تامل ناڈو میں تبلیغی جماعت کے شرکاء ، جنہوں نے گذشتہ ماہ نئی دہلی کے نظام الدین مرکز میں پروگرام میں شرکت کے بعد کورونا مثبت پائے گئے تھے۔وہ متاثرہ مریضوں کی جان بچانے کے لئے اپنا پلازما عطیہ کرنے کے لئے آگے آئے ہیں۔ یادرہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد نظام الدین مرکز میں منعقد ہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو نشانہ بنایا جارہاتھا اور اسی کے نام پر تبلیغی جماعت کے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے جارہے تھے ۔ ٹویٹر پر ہیش ٹیک کورونا جہا د ٹرینڈ کررہاتھا۔لیکن اب جو خبر یں آرہی ہے اس پر سوشل میڈیا پر کوئی چرچا نہیں ہے۔ دراصل ہندوستان میں کورونا کے خلاف جو جدوجہد جاری ہے وہ اب تبلیغی جماعت کے اراکین کے مدد کے بغیر نامکمل نظر آرہی ہے۔


پچھلے دنوں ملک کی کئی ریاستوں کی حکومتوں اور محکمہ پولیس نے نظام الدین مرکز میں منعقد ہ اجتماع میں شرکت کرنے والے شرکاء کو تلاش کرکے انہیں اسپتال پہنچا نے کا عویٰ کیاہے ۔ تاہم تمل ناڈو اور تلنگانہ میں تبلیغی جماعت کے ارکان نے رضاکارانہ طورپر اسپتال پہنچ کر کووڈ-19 کا ٹیسٹ کروایاتھا۔ وہیں تمل ناڈو میں تبلیغی جماعت کے 1 ہزار اراکین نے رضاکارانہ طور پر خود کو کورونا وائرس کی جانچ آگے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کے اراکین ، انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے الزامات کو مستر د کرنا چاہتے ہیں۔تمل ناڈو میں اب تک 1629افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں 1300 افراد نے نظام الدین مرکز میں منعقد اجتماع میں شرکت کی تھی ۔فائل فوٹو


کورونا سے جنگ: پلازما تھراپی واحد حل ؟


کورونا کے علاج کے لیے پلازما تھراپی کے استعمال پر ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ یہ تھراپی اسی صورت میں مریض کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ اس پر دواؤں کا کوئی اثر نہ ہو ۔ جب کورونا سے متاثر ہونے والوں کے جسم میں ،کورونا سے لڑ کر مکمل صحتیاب ہونے والوں کے خون سے حاصل کردہ اینٹی باڈیز ،منتقل کیے جاتے ہیں تو مریض میں اتنی قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے کہ اسکا نظام کورونا سے چھٹکارا پا لیتا ہے ۔

اس عمل کو اس طرح بھی سمجھایا کا سکتا ہے کہ عطیہ دینے والے کے جسم میں کورونا کو شکست دینے کے بعد اس کے پلازما کے اسی تجربہ کو عطیہ لینے والے شخص کے جسم میں بھی کورونا کو فنا کرنے میں آزما یا جاتا ہے ۔ پلازما تھراپی کے سلسلہ میں پلازما کا عطیہ لینے سے پہلے یہ خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ عطیہ کنندہ کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد اسکی رپورٹ دو ہفتوں تک کرونا نیگیٹیو رہے ۔ وہ دوسرے امراض جیسے ہیپاٹائیٹس اور ایچ آئی وی سے پاک رہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس کے جسم میں پلازما کی اتنی مقدار رہے کہ عطیہ دینے کے بعد بھی خود اسکے جسم میں قوت مدافعت قائم رکھنے کے لیے کافی ہو ۔

تبلیغی جماعت کے اراکین کیسے بن رہے ہیں کورونا ہیر وز؟

تری چیراپلی میں ایمن کالج آف آرٹس اینڈ سائنس فار ویمن کے ڈائریکٹر ، ایم ایم محمد ، پہلے کور ونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور انکا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا ۔ ایم ایم محمد کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹروں سے اس سے کہیں گے تو وہ اپنا پلازما عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ، "میری عمر 68 سال ہے۔لیکن اگر ڈاکٹر مجھے مشورہ دیں گے تو میں تیار ہوں۔"انہوں نے مزید کہا کہ انہیں 16 اپریل کو تریچی جنرل اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ "مسلمانوں میں خون کا عطیہ بہت عام ہے۔ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم مذہب یا دیگر اختلافات سے قطع نظر بھی انسانیت کی مدد کے لئے آگے آئیں گے۔"

مقامی علمائے  اور دیگر سماجی کارکنان ریاست کے مختلف اضلاع کے مرکز میں منعقد ہ اجتماع کے شرکاء کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ خون کا عطیہ اور پلازما تھراپی کرانے کے لئے تیار رضاکاروں کی ایک فہرست تیار کی جاسکیں۔ تبلیغی جماعت کے اراکین کا کہناہے کہ ، تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد ، جنہوں نے حال ہی میں اراکین سے اپنا خون عطیہ کرنے اور پلازما تھراپی کرانے کی خواہش کی تھی ۔ تاہم ، جماعت کے اراکین کی بڑی تعداد معاشرے میں ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کے بعد سے محتاط ہیں ، اور وہ صرف سکون سے رہنا چاہتے ہیں۔

اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے مریضو ں کو ایک فارم دیاگیا تھا ۔ جس پر سوال تحریر تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کیا وہ خون کے عطیہ دیں گے ؟ جس پر تبلیغی جماعت کے بیشتر ارکان نے رضامند ی کا اظہارکیاہے۔وہیں چنئی کے نیو کالج کے پر وفیسر ، پروفیسر عبدالحمید کا کہناہے کہ انتظامیہ نے اسپتال میں ہمیں کئی دستاویزات دیئے تھے۔ جس کے بعد کچھ لوگوں کو پریشانی ہوگئی تھی ۔ کیوں نکہ ان میں ایسے سیکشن تھے کہ کہا گیا تھا کہ انتظامیہ خود نمونے حاصل کریگا۔جسے پڑھنے کے بعد تبلیغی جماعت کے بہت سے ارکان فکر مند نظر آرہے تھے۔تبلیغی جماعت سے وابستہ کارکنان کی گرفتاری کےلئےاتراکھنڈ پولیس دیگر ریاستوں سے بھی مدد لے رہی ہے۔ فائل فوٹو

30 سالہ پروفیسر تبلیغی جماعت کے شرکاء میں بھی شامل تھے اور 20 اپریل کو اسپتال سے ڈ سچارج ہونے سےپہلے ،کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرواچکے ہیں۔ جو مثبت رہا۔ انہوں نے کہا ، " اب ماہ رمضان بھی آرہاہے، ایسے میں تبلیغی جماعت کے اراکین آ نا مشکل ہوگا لیکن اب تمام اراکین کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور حکومت ہمیں انتظامات کرنے میں تعاون کریگی تو ہم سب اراکین خون کا عطیہ دینے اور پلازما تھراپی کرانے کے لیے تیا ر ہیں۔

نظام الدین اجتماع کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ یہ عطیہ حکومت کی مدد سے منظم انداز میں انجام دیا جانا چاہئے تاکہ عوام میں یہ پیغام عام ہوجائے کہ جماعت کے اراکین حکومت کا تعاون کررہے ہیں ور مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ شرکاء محسوس کرتے ہیں کہ کورونا کی وباء کے لیے میڈیا نے مسلم کمیونٹی کو ذمہ دار ٹہرایاہے اور وہ چاہتے ہیں کہ میڈیا اب اپنی کوششوں کو بھی عوام کے درمیان اجاگر یں ۔ اراکین کا کہناہے کہ "ہم خون کا عطیہ کریں گے ، لیکن اگر ہم حکومت کے ذریعہ یہ منظم طریقے سے کراتے ہیں تو ، لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ انہیں ہمیں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمل ناڈو حکومت پلازما تھراپی کے مقدمے کی سماعت کے بعد انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) سے منظوری کے منتظر ہے۔

پلازما تھراپی کا تجربہ رہا کامیاب

نئی دہلی کے میکس سوپر اسپیسلیٹی اسپتال میں 4 اپریل کو 49 سالہ کورونا سے متاثر شخص ساکت کو شریک کروایا گیا ۔ ساکت کو شدید نمونیا تھا اور 8 اپریل تک انکا نظام تنفس مکمل طور پر کام کرنا بند کردیا تھا۔ اسلئے انہیں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا ۔ ساکت اپنے خاندان کے تیسرے ایسے فرد ہیں جو کورونا سے متاثر ہوئے تھے انکے والد اور والدہ بھی کرونا پوزیٹو پائے گئے تھے حال ہی میں انکے والد کا انتقال ہوگیا ۔جبکہ انکی والدہ علاج کے بعد صحت یاب ہو چکی ہیں ۔ اس کے بعد ساکت بھی کورونا پوزیٹو پائے گئے اور انہیں اسپتال میں شریک کروایا گیا ۔ ساکت کی بگڑتی حالت دیکھ کر انکے رشتے دار وں نے درخواست کی کہ انہیں پلازما تھراپی دی جائے۔ ڈاکٹرس نے پہلے ایک ایسے سابقہ کورونا پوزیٹو شخص کو پلازما کے عطیہ دینے پر رضامند کیا جو علاج کے بعد نیگیٹیو قرار دیا گیا تھا ۔ 14 اپریل کو ساکت کو پلازما چڑھایا گیا تھا او رپلازما تھراپی دیے جانے کے بعدجہاں تک ساکت کی حالت کا سوال ہے انکی حالت بہتر ہے ان کا تنفس کا نظام بھی بحال ہو چکا ہے اور اب انہیں مزید ونٹلیٹر کی ضرورت نہیں ہے 19اپریل کو ٹیسٹ کے بعد وہ کرونا نیگیٹیو ہو چکے ہیں۔

ہندوستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں کورونا کے متاثرین کو پلازما کے ذریعہ راحت کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جب تک اسکا ٹیکہ دریافت نہ ہو پلازما کا طریقہ کورونا کے علاج کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ ماہرین کی یہ تجویز ہے کہ مخصوص بلڈ بینکس کی نشان دہی کی جائے اور وہاں عطیہ دینے والوں سے پلازما حاصل کیا جائے اس کے بعد اسے ضرورت مندوں تک پہچایا جا سکتا ہے ۔
First published: Apr 23, 2020 09:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading