ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

وزیر اعلیٰ تلنگانہ کی رہائش گاہ کورونا ہاٹ اسپاٹ، 30 ملازمین پائے گئے کورونا پازیٹیو

شہر حیدرآباد کے ہر علاقہ پر حملہ آور کورونا کے قہر سے چیف منسٹر تلنگانہ کی سرکاری رہایش گاہ پرگتی بھون بھی نہیں بچ سکی۔

  • Share this:
وزیر اعلیٰ تلنگانہ کی رہائش گاہ کورونا ہاٹ اسپاٹ، 30 ملازمین پائے گئے کورونا پازیٹیو
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھرراو: فائل فوٹو، پی ٹی آئی

تلنگانہ میں کورونا کی وباء کا اثر اپنے عروج پر ہے۔ ان دنوں صرف  شہر حیدرآباد میں ہی روزانہ ایک ہزار سے زائد کو ویڈ کے متاثرین کی تعداد ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ گزشتہ چار روز میں ریاست بھر میں پانچ ہزار سے زائد کورونا کے کیسیز درج ہوئے ہیں ۔ ان میں اسی فیصد کیسیز کا تعلق شہر حیدرآباد سے ہے ۔ ان حالات میں حیدرآباد میں مقیم ہزاروں لوگ شہر چھوڑ کر گاؤں دیہاتوں کا رُخ کر رہے ہیں۔


شہر حیدرآباد کے ہر علاقہ پر حملہ آور  کورونا کے قہر سے چیف منسٹر تلنگانہ کی سرکاری رہایش گاہ پرگتی بھون بھی نہیں بچ سکی۔ اب تک یہاں متعین اسٹاف میں سے تیس ملازمین کو ویڈ پوزیٹو ثابت ہو چکے ہیں ۔ چیف منسٹر  کے چندرا شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد حیدرآباد کے علاقہ بیگم پیٹ میں اڑتیس کروڑ روپئے کے صرفہ سے نو ایکڑ کے رقبہ پر محل نما نیا کیمپ آفس تیار کروایا تھا جس کو پرگتی بھون کا نام دیا گیا ہے۔ سال 2016 سے کے سی آر سکریٹریٹ کے بجائے یہیں سے اپنا کام کاج انجام دے رہے ہیں۔  شہر حیدرآباد سے 65 کلو میٹر دور  ضلع میدک کے ایک گاؤں ایرراولی میں کے سی آر کا ساٹھ ایکڑ پر مشتمل اپنا نجی فارم ہاوز  ہے ۔ وہ اپنی سرکاری رہایش گاہ پرگتی بھون کے ساتھ ہی ساتھ  وقتاً فوقتًا اپنے فارم ہاوز میں بھی قیام کرتے ہیں ۔ لیکن گزشتہ کئی روز سے کے سی آر اپنے افراد خاندان کے ساتھ فارم ہاوز میں مقیم ہیں۔


حیدرآباد میں کورونا کے متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں انتظامات اور پرائیوٹ ہاسپٹلس میں مجبور عوام سے بل کے نام پر لاکھوں روپیہ وصول کرنے کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ وزیر صحت ائٹلہ راجندر بار بار یہ کہتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں بہترین انتظامات ہیں۔ عوام کارپوریٹ اسپتالوں کا رخ نہ کریں۔ لیکن جب ریاست کے وزراء اور ایم ایل ایز کوویڈ سے متاثر ہوکر  علاج کے لیے کارپوریٹ ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں تب  عوام کا سوال ہے کہ اگر سرکاری ہاسپٹلس تمام سہولتوں سے لیس ہیں تو کیوں وزراء اور عوامی نمائندے کسی سرکاری اسپتال میں بھرتی نہیں ہوتے؟


ان حالات کو دیکھتے ہوئے ریاست کے سربراہ سے یہ امّید کی جا رہی تھی کہ وہ اس مشکل دور میں  شہر میں ہی قیام کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے، نہ کہ کیمپ آفس کو چھوڑ کر  شہر سے دور اپنے فارم ہاؤس میں اپنے خاندان کے ساتھ قیام پذیر ہوتے ۔ عوام  کے سی آر سے اپنی ناراضگی کا اظہار سوشیل میڈیا کے ذریعہ کر رہے ہیں۔ اس وقت ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ویئر از کے سی آر

#WhereisKCR

سب سے زیادہ  ٹرینڈ کرتا ہوا سیاسی موضوع بن چکا ہے۔
First published: Jul 06, 2020 12:02 PM IST