உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی عرب میں نہیں تھم رہا کورونا کا قہر، متاثرین کی تعداد ہوئی 20 ہزار کے پار

    سعودی عرب کے محکمہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے 1266 نئے کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد مملکت میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے۔

    سعودی عرب کے محکمہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے 1266 نئے کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد مملکت میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے۔

    • Share this:
      ریاض۔  دنیا کے کئی ممالک کی طرح عالمی وبا کورونا وائرس (كووڈ -19) کا قہر سعودی عرب میں بھی مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ سعودی عرب کے محکمہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کے 1266 نئے کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد مملکت میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے اور اب تک اس مہلک مرض کا شکار 152 افراد وفات پاچکے ہیں۔

      العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، سعودی محکمہ صحت نے پچھلے چار دنوں میں کورونا وائرس کے یومیہ 1200 سے زیادہ کیسوں کی اطلاع دی ہے۔ وزارت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے منگل کے روز بتایا کہ نئے تشخیص شدہ کیسوں میں 23 فی صد سعودی شہری ہیں اور 77 فی صد غیر سعودی مقیم ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کا شکار آٹھ افراد دم توڑ گئے ہیں۔ ان میں ایک سعودی مرد کی جدہ میں وفات ہوئی ہے۔ دو سعودی خواتین مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئی ہیں اور پانچ غیر سعودی مکہ مکرمہ اور جدہ میں وفات پاگئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر پہلے ہی مختلف عوارض کا شکار تھے۔ ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں کل 20077 کیسوں میں 17141 فعال کیسز ہیں۔ ان میں 118 کی حالت تشویش ناک ہے۔


      العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، منگل کو رپورٹ کیے گئے 1266 نئے کیسوں میں 377 کا تعلق مکہ مکرمہ ،273 کا مدینہ منورہ ، 262 کا جدہ اور 171 کا الریاض سے تعلق ہے۔ دوسرے دو ، دو، چار، چار کیس سعودی عرب کے دوسرے شہروں اور صوبوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

      سعودی حکومت نے رمضان المبارک کے آغاز کے بعد مکہ مکرمہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں نافذ کرفیو میں نرمی کی ہے لیکن اس کے باوجود سعودی حکام شہریوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں اور کسی ناگزیر ضرورت کی صورت میں ہی گھروں سے باہر نکلیں۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: