ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بیٹے نے اپنی ہی ماں کے نام کورونا گائیڈ لائنس کی خلاف ورزی کرنے پر کاٹ دیا چالان: جانیں معاملہ

راشد کا کہنا ہے کہ کورونا کے ضابطے پر عمل کرنے سے ہی کورونا پر قابو پایا جاسکے گا جب سب کے لئے اصول یکساں ہو نا چاہیے۔ ایک طرف راشد جیسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ قانون پر عمل پیرا ہونے سے ہی اس وبا کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ پ

  • Share this:
بیٹے نے اپنی ہی ماں کے نام کورونا گائیڈ لائنس کی خلاف ورزی کرنے پر کاٹ دیا چالان: جانیں معاملہ
راشد کا کہنا ہے کہ کورونا کے ضابطے پر عمل کرنے سے ہی کورونا پر قابو پایا جاسکے گا جب سب کے لئے اصول یکساں ہو نا چاہیے۔ ایک طرف راشد جیسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ قانون پر عمل پیرا ہونے سے ہی اس وبا کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ پ

کورونا کے اس مشکل وقت میں ایک ایسی نادر مثال سامنے آئی ہے جس سے سب کو سبق لینا چاہئے۔ احمد نگرکا یہ معاملہ ہے جہاں میونسپل کارپوریشن میں کام کرنے والے راشد شیخ نام کےایک ملازم نے اپنی ہی ماں کی سبزیوں کے ٹھیلےکا چالان کاٹ کر ضبط کرلیا۔ ایک طرف جہاں ماں اور بیٹے کا پاک رشتہ ہے تو وہیں دوسری طرف فرض کو نبھانے کا جذبہ بھی موجود یے۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ معاملہ کیا ہے .آئیے ہم آپ کی یہ الجھن دور کردیتے ہیں. دراصل راشد کی ماں شہر میں سبزیوں کا ٹھیلہ لگاتی ہیں۔


کورونا قوانین کے مطابق یہ ٹھیلہ صبح 9 سے 11 کے درمیان لگنا چاہئے لیکن دوپہر 12 بجے کے قریب راشد کی ماں سبزیوں کو بیچ رہی تھی۔ کورونا کے دوران قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر نگر نگم کارروائی کرتی ہے . میونسپل کارپوریشن جب قوانین توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے نکلی تو کارپوریشن کے ملازمین کو راشد کے ماں کی سبزیوں کا ٹھیلہ نظر آیا۔ باقی ملازم راشد کی ماں کو سمجھا کر جانے دے رہے تھے لیکن راشد نے کہا کہ چالان سب کے لئے یکساں ہے۔ اگر باقی گاڑیوں پر کارروائی کی جارہی ہے تو ان کی ماں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔




احمد نگر کے پا تھرڈی تحصیل میں بیگم رفیق شیخ سبزی کا ٹھیلہ لگاتی تھی۔ میونسپل کارپوریشن کا عملہ جب پہنچا تو باقی ٹھیلے والوں کا چالان کاٹا اور کچھ کی سبزیاں کچرے میں پھینک دیں لیکن راشد کی ماں کےٹھیلے کےخلاف کارروائی نہیں کی۔ تو خود راشد نےکارروائی کرتے ہوئے چالان کاٹا اور اپنی ماں کا ٹھیلہ ضبط کرلیا۔



راشد کا کہنا ہے کہ کورونا کے ضابطے پر عمل کرنے سے ہی کورونا پر قابو پایا جاسکے گا جب سب کے لئے اصول یکساں ہو نا چاہیے۔ ایک طرف راشد جیسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ قانون پر عمل پیرا ہونے سے ہی اس وبا کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ پھر بھی اب بھی بہت سارے لوگ ایسےہیں جو اس وبا کے دوران غیر ضروری طور پرگھوم رہے ہیں اور سڑکوں پر جمع ہو رہے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 10, 2021 10:15 AM IST