ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

چار مسلم نوجوانوں نے 800 سے زائد ہندو لاشوں کی آخری رسوم کی ادا، انسانیت کی پیش کر رہے ہیں مثال

مہاراشٹرا کے ایوت محل میں 4 مسلم نوجوانوں نے 800 سے زیادہ ہندؤں کی ہندو رسم و رواج کے ساتھ آخری رسومات ادا کی۔ ان چار وں نوجوانوں کےنام عبد الجبار ، شیخ احمد ، شیخ علیم اور عارف خان ہے۔

  • Share this:
چار مسلم نوجوانوں نے 800 سے زائد ہندو لاشوں کی آخری رسوم کی ادا، انسانیت کی پیش کر رہے ہیں مثال
مہاراشٹرا کے ایوت محل میں 4 مسلم نوجوانوں نے 800 سے زیادہ ہندؤ ں کی ہندو رسم و روج کے ساتھ آخری رسومات ادا کی۔

اکثر و بیشتر مذہب کے نام پر لڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے لیکن اس دنیا میں  ذات اور مذہب سے بھی بڑی کوئی چیز ہے تو وہ انسانیت ہے جس کی مثال ایوت محل میں دیکھنے ملی  جہاں مسلم نوجوان ہندو رسم و رواج کے ساتھ لوگوں کا انتم سنسکار کر رہے ہیں۔ مہاراشٹرا کے ایوت محل میں  4 مسلم نوجوانوں نے  800 سے زیادہ ہندؤں کی ہندو رسم و رواج کے ساتھ آخری رسومات ادا کی۔ ان چار وں نوجوانوں کےنام عبد الجبار ، شیخ احمد ، شیخ علیم اور عارف خان ہے۔

یہ چار مسلم لڑکے اس کورونا دور میں ایوت محل کے شمشان بھومی میں دن رات سماجی کا موں میں مصروف ہیں۔کورونا Covid-19 pandemic کے اس دور میں خون کے رشتے بھی دور دکھائی دیتے ہیں ، اگر گھر کے کسی ممبر کی رپورٹ پازیٹیو آتی ہے تو ایسے  میں گھر والے چار قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔


ایسے سنگین حالات میں ایوت محل کے چار مسلم نوجوان ذات دھرم سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی مثال پیش کر رہے ہیں۔اب تک ان چاروں نوجوانوں نے ہندو رسم و رواج کے مطابق 800 سے زائد ہندو میت کا انتم سنسکار کیا ہے۔


کورونا متاثرین کی موت کے بعد  کوئی بھی مذاہب کے لوگ ان کے رسم رواج کے ساتھ  دفنانے یا انتم سنسکار کے لئے آگے نہیں آتا۔ اس لئے انتظامیہ نے مرنے والوں کی آخری رسومات کی ذمہ داری میونسپل انتظامیہ کو سونپی ہے۔

اس کام کے لئے میونسپل کار پوریشن نے دو ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور ان کے ذریعےآخری رسومات کا کام کیا جارہا ہے۔ یہ دونوں شمشان بھومی میں دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس میں تمام مذاہب کے رسم ورواج کے مطابق  رسومات ادا کی جارہی ہے جو بھی کورونا سے مر رہا ہے ، اس کے گھروالےمیت کو شمشان میں لاکر چھوڑدیتےہیں۔



ان چار نوجوانوں کو پتہ ہے کہ شمشان میں آنے والی زیادہ تر لاشیں کورونامریضوں کی ہیں ، اس کے باوجود چاروں نوجوان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دن رات کام کر رہے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 27, 2021 05:29 PM IST