உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹاپ میڈیکل ایکسپرٹ نے Omicron variantکو لیکر کیا چونکا دینے والا انکشاف، بتایا، یہ سب کو ہوگا! بوسٹر ڈوز بھی نہیں روک پائے گی

    Omicron Cases in India: ڈاکٹر جے پرکاش ملیئل نے کہا کہ صرف دو دنوں میں کورونا وائرس کا انفیکشن infection دوگنا ہو رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب تک کورونا ٹیسٹ سے اس کے بارے میں پتہ چلے گا، متاثرہ شخص پہلے ہی بہت سے لوگوں کو اس سے متاثر کر چکا ہوگا۔

    Omicron Cases in India: ڈاکٹر جے پرکاش ملیئل نے کہا کہ صرف دو دنوں میں کورونا وائرس کا انفیکشن infection دوگنا ہو رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب تک کورونا ٹیسٹ سے اس کے بارے میں پتہ چلے گا، متاثرہ شخص پہلے ہی بہت سے لوگوں کو اس سے متاثر کر چکا ہوگا۔

    Omicron Cases in India: ڈاکٹر جے پرکاش ملیئل نے کہا کہ صرف دو دنوں میں کورونا وائرس کا انفیکشن infection دوگنا ہو رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب تک کورونا ٹیسٹ سے اس کے بارے میں پتہ چلے گا، متاثرہ شخص پہلے ہی بہت سے لوگوں کو اس سے متاثر کر چکا ہوگا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس (Coronavirus) کے انفیکشن کی بڑھتی ہوئی رفتار کے درمیان Omicron کے کیسز بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ دریں اثنا  ایک اعلی طبی ماہر نے بھارت میں (Omicron in India)کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ  omicron variant  کو روکا نہیں جا سکتا۔ تقریباً ہر کوئی اس سے متاثر Infected ہوگا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کورونا ویکسین کی بوسٹر خوراک یا احتیاطی خوراک بھی اس پر کام نہیں کرے گی۔ بوسٹر خوراکیں Omicron کو روکنے کے قابل نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اومیکرون خود کو زکام کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

      این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولاجی میں سائنٹیفک ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر جے پرکاش مولائل نے اومیکرون انفیکشن کے بارے میں کئی چونکا دینے والے دعوے کیے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب کووڈ 19 کوئی خوفناک بیماری نہیں ہے کیونکہ کورونا کا نیا ویریئنٹ covid strain in india بہت ہلکا ہے۔ اس سے اسپتال میں داخل ہونے کے نوبت بھی کم آرہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں، 'Omicron ایک ایسی بیماری ہے جس سے ہم نمٹ سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ہم اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ 80 فیصد سے زیادہ لوگوں کو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ ان کے ساتھ یہ کب ہوا؟

      انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انفیکشن کے ذریعے قدرتی طور پر حاصل کی گئی قوت مدافعت زندگی بھر رہ سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان بہت سے دوسرے ممالک کی طرح بری طرح متاثر نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین آنے سے پہلے ہی ملک کی 85 فیصد آبادی کورونا سے متاثر ہو چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک نے بوسٹر ڈوز کا کام کیا۔ دنیا بھر میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قدرتی طور پر ہونے والا انفیکشن مستقل طور پر ایمونٹی immunity  نہیں دیتا ہے لیکن میں مانتا ہوں کہ یہ غلط ہے۔

      ڈاکٹر جے پرکاش ملیئل نے کہا کہ صرف دو دنوں میں کورونا وائرس کا انفیکشن infection دوگنا ہو رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب تک کورونا ٹیسٹ سے اس کے بارے میں پتہ چلے گا، متاثرہ شخص پہلے ہی بہت سے لوگوں کو اس سے متاثر کر چکا ہوگا۔ ساتھ ہی لاک ڈاؤن پر انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ دیر تک گھر میں بند نہیں رہ سکتے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈیلٹا ویرئنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اومیکرون کافی ہلکا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: