اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نظام الدین مرکزسے نکالے گئے108 افراد کورونا وائرس سے ہیں متاثر، ہوئی ہے 2اموات:کیجریوال

    اروند کیجریوال ۔ فائل فوٹو ۔

    اروند کیجریوال ۔ فائل فوٹو ۔

    دارالحکوت میں 219 معاملے سامنے آئے ہیں ،ان میں 108 مرکز کےہیں۔ کورونا وائرس سے متاثر 4لوگوں کی موت ہوئی ہے جن میں سے 2 مرکز سے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      دہلی میں نظام الدین میں واقع مرکز سے نکالے گئے لوگوں میں سے 108کورونا وائرس کے انفیکشن میں مبتلا ہیں اور دو کی موت ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے جمعرات کو دہلی میں کورونا وائرس کی صورت حال کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ دارالحکوت میں 219 معاملے سامنے آئے ہیں ،ان میں 108 مرکز کےہیں۔ کورونا وائرس سے متاثر 4لوگوں کی موت ہوئی ہے جن میں سے 2 مرکز سے ہیں۔ اروند کیجریوال نے کہاکہ فی الحال 208متاثر افراد اسپتالوں میں داخل ہیں۔ان میں سے ایک پچھلے کئی دن سے وینٹیلیٹر اور پانچ آکسیجن پر ہیں اور 202افراد کی حالت مستحکم ہے۔دہلی میں 31,307 لوگ خود قرنطینہ میں ہیں۔دہلی میں چھ لوگ ٹھیک ہوئے ہیں اور ایک شخص سنگاپور سے آیا تھا جو واپس چلا گیاہے۔

      وزاعلیٰ کیجریوال نے کہا ہے کہ دہلی کے کوروناوائرس کے معاملوں میں 51غیر ملکی سفرکرکے لوٹے تھے اور 29ان کے خاندان سے وابستہ ہیں۔اس کا مطلب یہ ہواکہ دارالحکومت میں فی الحال کورونا انفیکشن کمیونٹی سطح پر نہیں پھیلا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز کے 537لوگ اسپتال میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز سے بڑی تعداد میں نکالے گئے لوگوں کی جانچ رپورٹ آنی باقی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ رپورٹس آنے پر تعداد میں کافی اضافہ ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں کورونا وائرس ے ایک سے ڈھائی لاکھ لوگوں کے مرنے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔جب امریکہ جیسا ملک پست ہے تو سمجھنے کو کوشش کریئے کہ حالات کنتے خراب ہوسکتے ہیں۔اس لئے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں۔

      وزیراعلی ٰنے کہا کہ لاک ڈاؤن سے آٹو،ٹیکسی ،آرٹی وی،ای رکشہ،گرامین سیوا وغیرہ سب بند ہیں۔اس ذریعہ معاش سے منسلک لوگوں کی دقتوں کوحکومت سمجھتی ہے اور منصوبہ بنا رہی ہے ۔ان لوگوں کے اکاؤنٹ نمبر نہ ہونے سے دقتیں اور بھی بڑھ گئی ہیں لیکن پھر بھی ایک ہفتے یا دس دن میں کوئی راستہ نکال کر پانچ ہزار روپے ڈالے جائیں گے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: