உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں کورونا وائرس کے دو تہائی مریضوں کی عمر 50 سال سے کم

    اعداد و شمار میں 2069 مریضوں کی عمر کی جو درجہ بندی کی گئی ہے ان میں 1335 متاثرین یعنی 64.52 فیصد 50 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔

    اعداد و شمار میں 2069 مریضوں کی عمر کی جو درجہ بندی کی گئی ہے ان میں 1335 متاثرین یعنی 64.52 فیصد 50 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔

    اعداد و شمار میں 2069 مریضوں کی عمر کی جو درجہ بندی کی گئی ہے ان میں 1335 متاثرین یعنی 64.52 فیصد 50 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ عالمی وبا كووڈ -19 ملک کا دوسرا ہاٹ اسپاٹ بنی دہلی کے متاثرین میں چونکانے والی حقیقت یہ سامنے آرہی ہے کہ تقریبا دو تہائی مریضوں کی عمر 50 سال سے کم ہے۔ دہلی حکومت کی طرف سے پیر کو دیر رات جو اعداد آئے ہیں ان میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2081 تک پہنچ گئی۔

      اعداد و شمار میں 2069 مریضوں کی عمر کی جو درجہ بندی کی گئی ہے ان میں 1335 متاثرین یعنی 64.52 فیصد 50 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔ پچاس سے زائد اور 59 سال کی عمر والے 334 یعنی 16.14 فیصد ہے۔ ساٹھ سال اور اس سے اوپر کی عمر کے 400 مریض ہیں جو 19.33 فیصد ہے۔ بارہ متاثرین کی عمر کی تفصیلات ابھی نہیں آئی ہیں۔ خیال رہے کہ دہلی میں کورونا وائرس سے اب تک 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔



      ہلاک شدگان میں دس یعنی 21.3 فیصد پچاس سال سے کم عمر کے ہیں۔ بارہ یعنی 25.5 فیصد پچاس سال سے زیادہ 59 سال سے کم عمر تھے۔ باقی 25 یعنی 53.2 فیصد ساٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔ دارالحکومت میں 625 مریضوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ اس میں 26 آئی سی یو اورپانچ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ دہلی میں 431 مریض صحت مند بھی ہو چکے ہیں۔

      اعداد وشمار کے مطابق دارالحکومت میں 25900 کورونا وائرس کی جانچ کی گئی ہے۔ اس میں 19965 سرکاری اور 6335 پرائیویٹ لیبارٹری میں کی گئی ہے۔
      سرکاری لیبارٹری میں جو جانچ کی گئی ہے ان میں 1820 پازیٹو آئی ہیں۔پرائیویٹ لیبارٹری میں 261 کیسز کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ سرکاری لیبارٹرری کی 15181 اور پرائیویٹ کی 5531 رپورٹ نگیٹیو آئی ہیں۔ اس طرح مجموعی نمونوں میں سے 20712 کی رپورٹ آچکی ہے۔ اب 2711 نمونوں کی جانچ رپورٹ آنی ہے جس میں 2189 سرکاری اور 522 نجی لیبارٹری میں زیر التوا ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: