ہوم » نیوز » عالمی منظر

برطانوی سائنسداں نے دیا انتباہ، دنیا بھر میں پھیل سکتا ہے کوروناوائرس کا نیا UK اسٹرین

برطانیہ کے کینٹ علاقے میں سب سے پہلی مرتبہ ملے کورونا وائرس (COVID19) کے نئے اسٹرین (UK Strain) کو لیکر ایک برطانوی سائنسداں (British Scientist) نے فکر ظاہر کی ہے۔

  • Share this:
برطانوی سائنسداں نے دیا انتباہ، دنیا بھر میں پھیل سکتا ہے کوروناوائرس کا نیا UK اسٹرین
برطانیہ کے کینٹ علاقے میں سب سے پہلی مرتبہ ملے کورونا وائرس (COVID19) کے نئے اسٹرین (UK Strain) کو لیکر ایک برطانوی سائنسداں (British Scientist) نے فکر ظاہر کی ہے۔

برطانیہ کے کینٹ علاقے میں سب سے پہلی مرتبہ ملے کورونا وائرس (COVID19) کے نئے اسٹرین (UK Strain) کو لیکر ایک برطانوی سائنسداں (British Scientist) نے فکر ظاہر کی ہے۔ یوکے جینیٹک سرویلانس پروگرام (uk genetic surveillance programme) کی ہیڈ شیران پیکاک نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اسٹرین پر حالیہ ویکسین غیر موثر(ineffective) ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ اسٹرین حال تک یوکے میں تباہی مچا رہا تھا لیکن یہ پوری دنیا میں بیحد تیزی کے ساتھ پھیلنے کی طاقت رکھتا ہے۔


نیا وائرس میضوں میں ستمبر سے ہی تھا سرگرم۔

برطانیہ میں جو اسٹرین ملا ہے وہ اصل طور پر جینیٹک مٹریل کے ساتھ تو ہے، ساھ ہی زیادہ مضبوط ہے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق نئی قسم جنوب مشرقی برطانیہ میں نظر آئی۔ دسمبر میں جب اس حصے میں کورونا وائرس کے معاملات تیزی سے بڑھے تب سائنسدانوں کی اس بات پر نظر گئی۔ معلوم ہوا کہ نیا وائرس مریضوں میں ستمبر سے ہی ایکٹو تھا۔


نیا وائرس کو اسٹڈی کر رہے سائنسدانوں نے پایا کہ کورونا وائرس شروعات سے اب تک 23 بار میوٹیشن کے عمل سے گزر چکی ہے۔ ییچ کے کافی سارے میوٹیشن میں وائرس خطرناک نہیں ہوا۔ وہیں اس نئی قسم کو انفیکشن کے نقطہ نظر سے کافی مہلک سمجھا جارہا ہے۔
نئے کورونا وائرس میں کانٹے دار ساخت (structure) آٹھ مرتبہ میوٹیشن سے گزر کر آٹھ گنا زیادہ کانٹے دار ہو چکی ہے۔ نئے وارس میں جو کانٹے دار ساخت زیادہ ہوتی ہے اس کے ذریعے وہ جسم میں اور آسانی سے گھس جاتا ہے۔ کورونا کا یہ کانٹے دار structure ہی اسے ہمارے لئے زیادہ مہک بن چکا ہے۔ اسی لائن کو لیکر دنیا کے تمام سائنسداں نے ویکسی تیار کی جو کورونا کی کانٹے دار ساخت structure پر حمل کرکے اسے ہمارے جسم کی خلیات (Cells) سے جڑنے سے روک سکیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 11, 2021 11:01 PM IST