ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

اردو کتابوں کی عدم دستیابی سے اسکول اور مدارس کے اردو طالب علموں کی تعلیم متاثر ، آدھے سے زیادہ سال گزر جانے کے بعد سرکار نے تقسیم کا دیا حکم

کورونا وائرس وبا کے قہر کا اثر کاروبار اور روزگار کے ساتھ تعلیمی شعبہ پر بھی پڑا ہے۔ مارچ کے بعد سے اب تک اسکولوں میں جہاں باضابطہ طور پر کلاس روم تعلیم کی شروعات نہیں کی جا سکی ہے۔ وہیں آن لائن تعلیم میں بھی نصاب کی کتابوں کی عدم دستیابی کا خمیازہ سب سے زیادہ اردو طالب علموں کو ہے بھگتنا پڑ رہا ہے۔

  • Share this:
اردو کتابوں کی عدم دستیابی سے اسکول اور مدارس کے اردو طالب علموں کی تعلیم متاثر ، آدھے سے زیادہ سال گزر جانے کے بعد سرکار نے تقسیم کا دیا حکم
کورونا وائرس وبا کے قہر کا اثر کاروبار اور روزگار کے ساتھ تعلیمی شعبہ پر بھی پڑا ہے۔

کورونا وائرس وبا (Covid-19 pandemic) کے قہر کا اثر کاروبار اور روزگار کے ساتھ تعلیمی شعبہ پر بھی پڑا ہے۔ مارچ کے بعد سے اب تک اسکولوں میں جہاں باضابطہ طور پر کلاس روم تعلیم کی شروعات نہیں کی جا سکی ہے۔ وہیں آن لائن تعلیم میں بھی نصاب کی کتابوں کی عدم دستیابی کا خمیازہ سب سے زیادہ اردو طالب علموں کو ہے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تعلیمی سیشن کا آدھے سے زیادہ سال گزر جانے کے بعد اب یو پی میں کے محکمہ تعلیم کو اسکول اور مدارس میں اردو کتابوں کی ضرورت کی یاد آئی ہے۔

یو پی کے سرکاری اسکولوں اور مدارس میں نصاب کی کتابوں کی عدم دستیابی کوئی نیا معاملہ نہیں ہے لیکن کورونا وبا کی وجہ سے بند سرکاری اسکولوں کے بچوں کے لیے جہاں آن لائن تعلیم کاریگر ثابت نہیں ہو سکی ایسے میں اردو کتابوں کی عدم دستیابی سب سے زیادہ سرکاری اسکولوں اور مدارس کے بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔


مدرسہ ٹیچررس ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اردو کی کتابیں گزشتہ سالوں میں بھی تاخیر سے آتی رہی ہیں لیکن اس سال کورونا وبا کے سبب کتابیں اب تک موصول نہیں ہو سکی ہیں جبکہ آن لائن تعلیم کے لیے بچوں کی اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہیں تعلیمی سیشن کا آدھے سے زیادہ سال گزر جانے کے بعد اب سرکار نے اردو کتابوں کی تقسیم کے لیے آرڈر جاری کیا ہے لیکن ابھی بھی یہ کتابیں ضلع کے محکمہ بسک تعلیم تک نہیں پہنچ سکی ہے لیکن متعلقہ محکمہ کے افسران جلد کتابیں تقسیم کر دیے جانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اردو کتابوں کی عدم دستیابی کے سبب اسکول اور مدارس کے طالب علموں کا جتنا نقصان اب تک ہو چکا وہ تو پورا نہیں کیا جا سکتا لیکن سالانہ امتحان سے قبل کتابوں کو فراہمی کو یقینی بنا کر نقصان کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

Published by: sana Naeem
First published: Nov 21, 2020 01:42 PM IST