ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

الوداع: راحت اندوری جیسے شعراء کی وفات سے ادبی دنیا کا مستقبل کیا ہوگا؟ : ویڈیو دیکھیں

ممتاز و معروف شاعر راحت اندورری دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ مشاعرے کی دنیا میں راحت اندوری ایک مستند نام تھا ۔ راحت اندوری مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ ان کے اشعار لوگوں کو منہ زبانی یاد ہیں۔

  • Share this:

مشاعرے کی دنیا میں راحت اندوری (Rahat Indori) ایک مستند نام تھا۔ راحت اندوری مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ ان کے اشعار لوگوں کو منہ زبانی یاد ہیں۔ نیوز ایٹین اردو سے راحت اندوری کو خاص لگاؤ تھا۔ ناظرین کے ادبی ذوق اور تشنگی کے پیش نظر نیوز ایٹین اردو نے لاک ڈاؤن اور کورونا کے دور میں بھی آ ن لائن مشاعرے کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ عید اسپیشل آن لائن مشاعرے میں راحت اندوری نے نیوز ایٹین اردو پر اپنا آخری کلام پیش کیا.

ممتاز و معروف شاعر راحت اندورری دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ آج رات ساڑھے نو بجے تدفین ہوگی۔ راحت اندوری کا اندور کے ایک اسپتال میں علاج چل رہا تھا۔ راحت اندوری کا انتقال ادبی دنیا کے لئے ایک خسارہ ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے آ خری ٹویٹ میں راحت اندوروی نے اپنے مداحوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے اور اسپتال میں داخل ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے دعائے صحت کے لئے اپیل کی تھی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ وہ اپنی صحت کے بارے میں ٹوئٹر پر ہی آگاہ کرتے رہیں گے ۔ اسی ٹویٹ ہینڈل کے ذریعہ راحت اندوری کے موت کی خبر بھی دی گئی ۔راحت اندوری کی غزلیں اور نظمیں لوگوں کے زبان پر عام تھی ۔ انہیں ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یکساں مقبولیت حاصل تھیں۔ راحت اندوری کے بہت سے شعر کافی مقبول تھے ۔

مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مقبول شاعر راحت اندوری کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی رحلت کی خبر سے مجھے شدید صدمہ ہوا ہے۔ وہ اردو ادب کی ایک قد آور شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی یادگار شاعری سے لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کی موت سے ادبی دنیا کو ایک بہت بڑا خسارہ ہوا ہے۔ غم کی اس گھڑی میں ان کے چاہنے والوں سے میں تعزیت کرتا ہوں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اردو کے مشہور شاعر راحت اندوری کے انتقال کو مدھیہ پردیش اور ملک کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان نے ٹویٹ کیا ہے کہ "لاکھوں دلوں پر اپنی شاعری سے راج کرنے والے مشہور شاعر ہردل عزیز شاعر راحت اندوری کا انتقال مدھیہ پردیش اور ملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔"



انہوں نے کہا کہ "میں خدا سے دعا گو ہوں کہ وہ ان کی روح کو سکون عطا کرے اور ان کے اہل خانہ اور عزیزوں کو اس بے حد غم کو برداشت کرنےکی توفیق دے۔" انہوں نے یہ اشعار بھی لکھے کہ".... راہ کے پتھر سے بڑھ کرکچھ نہیں ہیں منزلیں، راستے آواز دیتے ہیں، سفرجاری رکھو، ایک ہی ندی کے ہیں یہ دونوں کنارے دوستوں، دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو۔ راحت جی، آپ ہمیں اس طرح چھوڑ دیں گے، یہ سوچا ہی نہیں گیا تھا۔ آپ اب جس دنیا میں بھی ہوں، سلامت رہیں، سفر جاری رہے‘‘۔
نازے پر مرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے


محبتوں کا تاجدار راحت دنیا کو الوداع کہہ چکا ہے۔ راحت اندوری کی ولادت یکم جنوری انیس سو پچاس (1950) کو اندور میں ہوئی۔راحت کی تعلیم و تربیت اندور میں ہوئی۔ ایم اے تک کی تعلیم انہوں نے اندور سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ راحت اندوری کو عام طور پرلوگ ایک شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں، مگر راحت نے اپنی عملی زندگی کا سفر ایک مصور کی حیثت سے کیا۔
راحت اندوری نے ایم ایف حسین کے ساتھ بھی مصوری کی۔ پھر مصوری کے وہی رنگ شاعری کے پیکر میں ڈھل کر ہمارے سامنے آئے۔ راحت اندوری کے شعری مجموعوں میں دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، ناراض کے نام قابل ذکر ہیں۔ راحت اندوری نے 18 سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے اختر شیرانی کو دل میں بیٹھایا، ساحر کو اپنایا، مجاز سے پیار کیا۔ مخدوم پر اعتبارکیا، فیض سے فیضیاب ہوئے اور کوچہ سخن میں کامیاب ہوئے۔ راحت اندوری کے فن وشخصیت پر بہت سے خاص نمبر بھی نکالے گئے۔ راحت اندوری نے فلموں کے لئے بہت سے کامیاب نغمے لکھے۔ ان کی اہم فلموں میں جانم، سر، ٹکر، رام،غنڈہ راج، پریم شکتی، توکھلاڑی میں اناڑی، ہمالیہ پتر، درار، یارانہ، جنٹل مین، آواز، تمنا، ناجائز، عشق، ناراض، بے قابو، خوددار، قریب، پریم آنگن، ہیرو ہندستانی، خوف، اگر تم نہ آئے، دیوانہ تیرے پیارکا، مشن کشمیر جیسی اہم فلموں کے نام قابل ذکر ہیں۔
راحت اندوری نے وہی لکھا جو انہوں نے محسوس کیا۔ ان کی شاعری سماج کا آئینہ ہے۔ سماج میں اٹھنے والے تعصب کے دھویں سے وہ بہت دلبرداشتہ ہوتے تھے۔ وہ کہتے ہیں:
جن چراغوں سے تعصب کا دھواں اٹھتا ہو
ا ن چراغوں کو بجھا دو تو اجالے ہوں گے

ڈاکٹر راحت اندوری نے اپنی زندگی کا آخری مشاعرہ نیوز 18 اردو کے لئے پڑھا اور ا س مشاعرہ میں جو کلام پیش کیا اس میں وہ شعربھی تھا جس کو سننے سے لگتا تھا کہ جیسے انہیں اپنی زندگی کے اختتام کا اندازہ ہوگیا ہو ۔وہ کہتے ہیں۔
عمر بھر کی نیند پوری ہوچکی ہے
تب کہیں جا کر مرا بستر کھلا
راحت اندوری کے جانے کا غم صرف ہندوستان کے اردو شائقین کا نقصان نہیں ہے بلکہ پوری اردو دنیا کا نقصان ہے۔ راحت اندوری بھلے ہی ہمارے بیچ نہیں ہیں، لیکن ان کی شاعری اور ان کے کارہائے نمایاں ہمیشہ ان کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Aug 11, 2020 10:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading