ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا کی شروعات کہاں سے ہوئی لگانا ہوگا پتہ، نہیں تو کووڈ-26 اور کووڈ -32 کیلئے رہیں تیار، ماہرین 

کورونا وبا سے بچنے کے لئے دنیا کو اس کی پیداوار یعنی کہاں سے شروعات ہوئی اس کا پتہ لگانے کیلئے چینی حکومت کی جانب سے ساتھ کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ادنیا کو کو کوڈ 26 اور کووڈ 32 کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

  • Share this:
کورونا کی شروعات کہاں سے ہوئی لگانا ہوگا پتہ، نہیں تو کووڈ-26 اور کووڈ -32 کیلئے رہیں تیار، ماہرین 
اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ادنیا کو کو کوڈ 26 اور کووڈ 32 کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

واشنگٹن: کورونا وائرس (Coronavirus) کی پیداوار کہاں سے ہوئی، یہ پتہ لگانے میں مدد کرنے کیلئے مسلسل چین China) پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب امریکہ کے کچھ کچھ سرکردہ ماہر امراضیات نے کہا ہے کہ مستقبل میں کورونا وبا سے بچنے کے لئے دنیا کو اس کی پیداوار یعنی کہاں سے شروعات ہوئی اس کا پتہ لگانے کیلئے چینی حکومت کی جانب سے ساتھ کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ادنیا کو کو کوڈ 26 اور کووڈ 32 کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ میں فوڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر رہے اور اب فائزر کمپنی کے بورڈ کے ممبر اسکاٹ گاٹلب نے کہا ہے کہ چین کی ووہان Wuhan لیب ست کورونا وائرس کے نکلنے کو یکر اب کافی جانکاریاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران کہا کہ چین نے اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ وائرس لیب کی دین نہیں ہے۔ دوسری طرف اس کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہت کہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پہنچا۔


ایک دیگر ٹی وی پروگرام میں ٹیکساس چلڈرن ہاسپیٹل سنٹر فار ویکسین ڈیولپمینٹ کے لئے شریک ڈائریکٹر پیٹر ہوٹیز نے کہا ہے کہ اگر یہ معلوم نہیں لگتا ہے کہ اس کورونا وائرس وبا کی شروعات کہاں سے ہوئی ہے تو اس سے مستقبل میں دنیا پر اس طرح کے تباہی کا امکان بڑھتا ہے۔ ہوٹیز نے کہا، جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ کووڈ 19 کہاں سے پھیلا ہے تب تک آگے "ہمیں کووڈ 26 اور کووڈ 32 کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تقریبا ڈیڑھ سال پہلے یہ وائرس پہلی بار چین کے ووہان سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا تھا لیکن آج تک یہ پتہ نہیں لگ سکا ہے کہ یہ وائرس آخر کہاں سے پیدا ہوا۔ سائنسدانوں نے ایک اندیشہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ جنگلی جانوروں سے لیکر انسانوں تک پہنچا ہے۔ وہیں اس وائرس کے ووہان کی لیب سے نکلنے کا دعوی ٹرمپ انتظامیہ کرتا ہا تھا اور اب جو ابئیڈن انتظامیہ بھی اسی دعوے پر زور دے رہا ہے۔


بتادیں کہ اس بحث کی شروعات ایک بار ہھر سے تیز ہوئی جب وال اسٹریٹ جرنل نے 23 مئی کو اپنی ایک رپورٹ میں یہ دعوی کیا کہ کورونا وائرس پھیلنے سے تقریبا ایک ایک ماہ پہلے یعنی نومبر 2019 میں ہی چین کی ووہان لیب کے کچھ مھققین ٹھیک اسی طرح کی علامات کے ساتھ بیمار تھے جیسے کورونا کے ہوتے ہیں۔



رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بیمار محققین کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا۔ ہوٹیز نے کہا کہ سائنسدانوں کو چین میں طویل وقت کیلئئ جانچ کرنے دینا چاہئے۔ اس دوران انہیں انسانوں اور جانوروں کے کون کے نمونے بھی لینے کی منظوری دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چین پر پابندی لگانے کی دھمکی دیکر دباؤ بنانا چاہئے تاکہ وہ جانچ کرنے کرنے دے۔ انہوں نے کہا ہمیں چین کے Hubei صوبے میں سائنسدانوں، وبائی امراض کے ماہر وائرلاجسٹ ، بیٹ (چمگادڑ) اکولاجست کی ایک ٹیم چھ مہینے یا سال بھر کیلئے چاہئے۔ کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ کیا یہ چین میں لیب میں بنا ہے؟ ایسے سوالوں کے جواب ابھی باقی ہیں۔ دنیا بھر کے محققین یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ کورونا وائرس کی پیداوار یا شروعات کیسے ہوئی۔ اس سلسلے میں برطانوی پروفیسر اینگس ڈلگلش اور ناروے کے سائنسداں ڈاکٹر سورینسن نے دعوی کیا ہے کہ چین میں ایک لیب میں کورونا وائرس بنایا گیا ہے۔ دونوں سائنسدانوں کی تحقیقی اطلاعات میں دعوی کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے نمونے میں ایک 'انوکھا فنگر پرنٹ' پایا گیا ہے جو لیب میں اس وائرس سے چھیڑ چھاڑ کے بعد ہی ممکن ہے۔ برطانیہ کی نیوز ویب سائٹ ڈیلی میل نے اس بارے میں خبر شائع کی ہے اور یہ دونوں سائنسدانوں کے ذریعے لکھے ہوئے تحقیقی مقالے کی بنیاد پر اسے لکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چینی سائنسدانوں کو ووہان لیب میں گین آف فنکشن پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے بنایا۔ گین آف فنکشن ریسرچ امریکہ میں عارضی طور پر پابندی عائد ہے۔ اس تحقیق میں قدرتی طور پر پائے جانے والے وائرس کو لیب میں تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کیلئے لیب میں ڈیولپ کیا جاتا ہے اور تاکہ انسانون پر اس کا اثر انسانوں پر زیادہ ہو۔

ریسرچ کے مطابق سائنسدانوں نے گوفہ میں پائے جانے والے چمگادڑوں سے قدرتی کورونا وائرس کا بیک بون لہا اور اس وائرس میں ایک نیا اسپائک جوڑا جس کے نتیجے میں اس سے کہیں زیادہ موثر اور مہلک کووڈ 19 وائرس ملا۔ محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ کوڈ 19 میں قدرتی کورونا وائرس کا کوئی پرانا ثبوت نہیں ملا ہے۔ ساتھ ہی لیب میں وائرس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا پتہ نہ چلے اس کیلئے ریورس انجینئرنگ کی گئی ہے۔

ڈیلی میل ڈاٹ کام کے ساتھ برطانوی پروفیسر اینگس ڈلگلش نے کہا ، "ہمارے خیال میں یہ وائرس ریٹرو انجینئرنگ سے وائرس کو بنایا گیا تھا بعد میں اسے بدل دیا گیا اور اور پھر اسے ایک ترتیب دی گئی جو کئ سال پہلے کی حالت میں تھا۔" سائنسدانوں نے بھی اپنی تحقیق میں ووہان لیب میں ثبوتوں کو تباہی کئے جانے کو لیکر بھی پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ جن سائنسدانوں نے اس بارے میں اپنی معلومات شیئر کرنی چاہی یا وہ غائب ہو گئے ہھر ابھی تک منھ نہیں کھولا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 31, 2021 08:04 PM IST