ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

20 گھنٹے تک اسپتال میں تڑپتی رہی 7 ماہ کی حاملہ خاتون، پیٹ میں ہی مرگیا بچہ اور پھر ہوا یہ۔۔۔۔

ہیلٹ کے زچہ۔بچہ اسپتال (Hallet Hospital) میں ایک حاملہ خاتون 20 گھنٹے تک درد سے تڑپتی رہی۔ اس دوران وہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں کوروناوائرس مشتبہ مانتے ہوئے ٹیسٹ رپورٹ آنے تک کا اعلان کرنے سے منع کردیا

  • Share this:
20 گھنٹے تک اسپتال میں تڑپتی رہی 7 ماہ کی حاملہ خاتون، پیٹ میں ہی مرگیا بچہ اور پھر ہوا یہ۔۔۔۔
ہیلٹ کے زچہ۔بچہ اسپتال (Hallet Hospital) میں ایک حاملہ خاتون 20 گھنٹے تک درد سے تڑپتی رہی۔ اس دوران وہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں کوروناوائرس مشتبہ مانتے ہوئے ٹیسٹ رپورٹ آنے تک کا اعلان کرنے سے منع کردیا

ہیلٹ کے زچہ۔بچہ اسپتال (Hallet Hospital) میں ایک حاملہ خاتون 20 گھنٹے تک درد سے تڑپتی رہی۔ اس دوران وہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں کوروناوائرس مشتبہ مانتے ہوئے ٹیسٹ رپورٹ آنے تک کا اعلان کرنے سے منع کردیا۔ اہل خانہ کے کافی سمجھانے کے بعد خاتون کو داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد ڈلیوری کرانے میں گھنٹوں لگادئے۔ پوری رات خاتون درد زہ سے تڑپتی رہی۔ منگلا وہار کی مقامی خاتون کے والد کملیش کا الزام ہے کہ اس کی بیٹی اپنے سسرال سے گھر آئی تھی۔ انہیں سات ماہ کی حاملہ تھی۔ پیٹ میں بچے کی حرکت اچانک بند ہوگئی۔ جس پر گھبراتے ہوئے نجی اسپتال لے گئے۔ وہاں سہولیت نہ ملنے پر زچہ۔بچہ اسپتال لیکر منتقل کردیا گیا۔


کملیش کا الزام ہے کہ پہلے فائل بنانے کے نام پر کئی گھٹے تک پریشان کیا گیا۔ اس کے بعد ان کی بیٹی کو کوروناوائرس مشتبہ مانتے ہوئے کوروناوارڈ میں داخل کردیا گیا۔ وہاں موجود ڈاکٹر نے کہا کہ کوروناوائرس رپورٹ آنے کے بعد ہی علاج کرپائیں گے۔ پوری رات خاتون درد سے کراہتی رہی مگر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور نرس کسی نے سدھ نہیں لی۔ دیر رات ایک مرتبہ پھر کنبے نے موجود ڈیوٹی اسٹاف کو بتایا۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے ڈلیوری کیلئے درد والا انجیکشن دیا اور پھر بعد میں درد کم کرنے والا انجیکشن لگایا۔ رات 1:30 بجے خاتون کی رپورٹ نگیٹو آئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے ڈلیوری کی تیاری کی۔ ڈلیوری کے بعد بچہ مرا ہوا نکلا۔ جیسے ہی یہ اطلاع خاتون کی فیملی ملی ان کا رو۔رو کر برا حال ہوگیا۔ کملیش نے وہاں موجود اسٹاف پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے شور مچانا شروع کردیا۔ جس کودیکھتے ہوئے دھیرے۔دھیرے کرکے ایک۔ایک۔ کرکے تمام اسٹاف اور ڈاکٹر وہاں سے کھسک گئے۔


اس پورے معاملے پر زچہ۔بچہ اسپتال کی ہیڈ آف ویمن اینڈ پریزنٹیشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کرن پانڈے کا کہنا ہے کہ علاج میں کوئی لاپرواہی نہیں ہوئی۔ الزام بے بنیاد ہیں یہ کیس کافی بگڑا ہوا تھا اور ایسے میں ڈلیوری کرانے میں وقت لگ جاتا ہے۔

First published: Jun 02, 2020 11:55 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading