ہوم » نیوز » وطن نامہ

عالمی ادارہ صحت کا انتباہ! ہفتے میں 55 گھنٹے سے زیادہ کام کیا تو بڑھ جائے گا موت کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت نے کی طرف سے جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کام کے طے گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے سے ایک سال میں ہزاروں لوگوں کی جان جا رہی ہے۔ ا

  • Share this:
عالمی ادارہ صحت کا انتباہ! ہفتے میں 55 گھنٹے سے زیادہ کام کیا تو بڑھ جائے گا موت کا خطرہ
عالمی ادارہ صحت نے کی طرف سے جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کام کے طے گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے سے ایک سال میں ہزاروں لوگوں کی جان جا رہی ہے۔ ا

کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بحران کی رفتار کو قابو کیلئے زیادہ تر ریاستوں میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ ایسے میں بڑی تعداد میں کمہنیوں نے اپنے ملازمین کو کورونا وائرس سے بچانے کیلئے ورک فرام ہوم (WFH) کی سہولیت دے دی ہے۔ حالانکہ دفتر میں جہاں زیادہ تر ملازمی چھ سے آٹھ گھنٹے کی شفٹ کرتے تھے اب انہیں تقریبا دو گنے وقت تک کام کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا اس پر کہنا ہے کہ زیادہ وقت تک کام کرنا صحت کیلئے شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ (WHO) کے سائنسدانوں کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ لاکھوں لوگوں کی موت لمبے وقت تک کام کرنے سے ہو رہی ہے۔


کووڈ وبا کے دوران WFH میں زیادہ کام سے بڑھ رہا ہے تناؤ۔۔۔

عالمی ادارہ صحت نے کی طرف سے جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کام کے طے گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے سے ایک سال میں ہزاروں لوگوں کی جان جا رہی ہے۔ اس میں کورونا وبا کے دوران بڑھوتری ہو گئی ہے۔ کووڈ وبا کے دوران (Work From Home) والے ملازمین میں زیادہ تناؤ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ ایسے میں وہ اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر آپ بھی طویل وقت تک لیپ ٹاپ پر نظریں گڑھائے بیٹھے رہتے ہیں تو آپ بھی اپنی جان خطرے میں دال رہے ہیں۔ طویل وقت تک کام کرنے والوں کی زندگی کو لیکر انوائرمینٹ انترنیشنل جرنل میں شائع دنیا کی پہلی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں زیادہ دیر تک کام کرنے کے چلتے اسٹروک (Stroke) اور دل کی بیماری (Heart disease) کے اعداد و شمار میں بڑھوتری ہوئی ہے۔ اس سے دنیا بھر میں 7.45 لاکھ لوگوں کی جان چلی گئی۔ یہ تعداد سال 2000 کے مقابلے قریب تیس فیصدی زیادہ تھی۔


زیادہ کام سے زندگی کیلئے پیدا ہو رہے ہیں سنگین خطرات
عالمی ادارہ صحت کے محکمہ ماحولیات ، آب و ہوا کی تبدیلی اور صحت کی ڈائریکٹر ماریہ نیرا نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے ثبوت کے ذریعے ہم ان کارکنوں کی زندگیاں بچانا چاہتے ہیں ،؎ جو اب بھی طویل وقت تک کام میں مصروف رہتے ہیں۔ واضحہو کہ ڈبلیو ایچ او اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی یہ تحقیق 194 ممالک سے جمع کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ تحقیق میں 2000 سے 2016 تک کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے۔

کل متاثرین کا 72 فیسد تناؤ کا شکار مرد ہیں
ریسرچ کا کہنا ہے کہ ہفتے میں 35-40 گھنٹے کام کرنے والے افراد کے مقابلہ میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے والے 35 فیصد افراد کو اسٹروک (Stroke) کا سامنا کرنا پڑا اور 17 فیصد جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ طویل موقت تک کام کرنے کے سائیڈ افیکٹ سے چین ، جاپان اور آسٹریلیا کے ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہفتے میں 55 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی عادت میں سدھار لانا بہت ضروری بتایا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹڈروس ایڈنوم گیبریئس نے کہا کہ اس وبا کے دوران ، اندازے کے مطابق 9 فیصد لوگ لمبے وقت سے کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں میں تناؤ سے متعلق بیماریوں کی علامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ تر متاثرین یعنی 72 فیصد مرد تھے اور درمیانی عمر یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔ تحقیق کے مطابق ، کئی بار ایسے لوگوں کی موت 10 سال بعد بھی ہوجاتی ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 24, 2021 06:43 PM IST