ہوم » نیوز » عالمی منظر

ڈبلیو ایچ او کا الرٹ: کوروناوائرس وبا کے خلاف اینٹی بائیوٹک کا زیادہ استعمال جان لیوا

اس انتباہ کے مطابق ، اینٹی بائیوٹکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بیکٹیریا کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان سے ہونے والی بیماریاں خطرناک شکل میں سامنے آسکتی ہیں اور اس وجہ سے کوروناوائرس سے زیادہ موتیں ہو سکتی ہیں۔

  • Share this:
ڈبلیو ایچ او کا الرٹ: کوروناوائرس وبا کے خلاف  اینٹی بائیوٹک کا زیادہ استعمال  جان لیوا
اس انتباہ کے مطابق ، اینٹی بائیوٹکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بیکٹیریا کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان سے ہونے والی بیماریاں خطرناک شکل میں سامنے آسکتی ہیں اور اس وجہ سے کوروناوائرس سے زیادہ موتیں ہو سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او WHO نے ایک انتباہ جاری کرکے کہا ہے کہ الرٹ کوروناوائرس (Coronavirus)کے خلاف اینٹی بائیوٹک (Antibiotics) کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہورہا ہے جو کہ مستقبل میں کافی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس الرٹ کے مطابق اینٹی بائیوٹک (Antibiotics) کا زیادہ استعمال جراثیم کو اور زیادہ مضبوط بنا رہا ہے جس کے چلتے ان سے ہونے والی بیماریاں خطرناک شکل میں سامنے آسکتی ہیں اور اس وجہ سے کوروناوائرس (Covid-19 pandemic) سے زیادہ موتیں ہوسکتی ہیں۔

اس انتباہ کے مطابق ، اینٹی بائیوٹکس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بیکٹیریا کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان سے ہونے والی بیماریاں خطرناک شکل میں سامنے آسکتی ہیں اور اس وجہ سے کوروناوائرس سے زیادہ موتیں ہو سکتی ہیں۔

The Guardian ‏میں چھپی ایک خبر کے مطابق WHO کے ڈائریکٹر ٹیڈروس ایڈہانم گیبریئسس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) نے پیر کو کہا کہ ہ بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں کا علاج کرنے والی دوائیوں کے خلاف بیکٹیریا کی قوت مدافعت بڑھ رہی ہے۔ کووڈ-19 وبا کے سبب اینٹی بائیوٹک کا استعمال بہت زیادہ ہوگیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دھیرے۔دھیرے جراثیم ان دواؤں کے کیلئے طاقتور ہوجائیں گے۔ ایسے میں موجودہ وبا کوروناوائرس کے دور میں اور آنے والے وقت میں جراثیم سے ہونے والی بیماریاں اور خطرناک ہوسکتی ہیں اور ان کے علاج کیلئے بھی دوسری دواؤں کی ضرورت پڑے گی۔

بیکٹریا کی وجہ سے ہوتا ہے ٹی بی اور نمونیا

بتادیں کہ سبھی بیکٹیریا نقصان نہیں پہنچاتے لیکن بیماری پیدا کنے میں کچھ زہریلے عنصر ہیں جنہیں اینڈو ٹاکسن اور ایکسو ٹاکسن کہا جاتا ہے۔ ان سے ہونے واالی اہم بیماریوں میں بیکٹیریل میننزائٹ، نمونیا، ٹی بی تپ دق اور ہیضہ اہم بیماریوں ہیں۔ بتادیں کہ اینٹی بائیوٹکس کی کھوج سے پہلے ٹی بی، نمونیا اور ہیضہ سے دنیا میں ہر سال ہزاروں موتیں ہوا کرتی تھیں۔ نمونیا پھیپھڑوں میں انفیکشن پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹی بی کیلئے اینٹی بائیوٹک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہیضہ آنتوں کا وائرس ہے جو بیکٹیریا (Vibrio cholerae) سے ہوتا ہے۔ یہ آلودہ کھانے اور پانی سے پھیلتا ہے۔

First published: Jun 02, 2020 01:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading