உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: پاکستان میں ویکسینیشن پروگرام پر کیوں ہورہی ہیں تنقیدیں؟ کیا ہے اصل وجہ؟

    ’’ہمارے مطالعے کا مجموعی مقصد بچوں اور نوزائیدہ بچوں میں طویل عرصے تک رہنے والی علامات کے پھیلاؤ کا تعین کرنا ہے‘‘

    ’’ہمارے مطالعے کا مجموعی مقصد بچوں اور نوزائیدہ بچوں میں طویل عرصے تک رہنے والی علامات کے پھیلاؤ کا تعین کرنا ہے‘‘

    پاکستان کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے جمعرات کو ڈان اخبار کو بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ وائرس پاکستان سے آیا ہے، کیونکہ برطانیہ کے حکام نے ابھی تک جینوم کی ترتیب کے نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    • Share this:
      جمعہ کو ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چار دہائیوں میں پہلی بار لندن میں سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کے پائے جانے کے بعد پاکستان میں جاری ویکسینیشن پروگرام شکوک و شبہات میں آ گیا ہے۔ یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے نوٹ کیا ہے کہ جمعرات کو پایا جانے والا وائرس ممکنہ طور پر کسی ملک سے درآمد ہوا ہے۔

      یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے والدین سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بچوں کو معذوری کی بیماری کے خلاف مکمل حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں۔ اسلام آباد میں صحت کے حکام کا دعویٰ ہے کہ برطانیہ میں پایا جانے والا ویکسین سے حاصل کردہ وائرس 22 ممالک میں موجود ہے اور مقامی طور پر پائی جانے والی قسم وائلڈ پولیو وائرس (WPV) تھی۔

      پاکستان کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے جمعرات کو ڈان اخبار کو بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ وائرس پاکستان سے آیا ہے، کیونکہ برطانیہ کے حکام نے ابھی تک جینوم کی ترتیب کے نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے۔

      مزید پڑھیں: Prophet Remarks Row:پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوئیں نوپور شرما، پیر کو ایکشن لے سکتی ہے ممبئی پولیس

      جینوم کی ترتیب سے وائرس کی اصلیت کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے، کیونکہ مختلف علاقوں میں پائے جانے والے نمونوں میں مختلف رائبونیوکلک ایسڈ (RNA) ہوتا ہے۔ کئی بار پاکستان میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی رپورٹ پڑوسی ملک افغانستان سے جینوم کی ترتیب کے دوران ہوئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:Maharashtra Political Crisis:’میں دیکھ رہا ہوں مہاراشٹر میں بندروں کاناچ ہورہاہے‘:اسداویسی

      ڈاکٹر شہزاد بیگ نے کہا کہ ہم وائرس کے جینیاتی نمونے لینے کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں پولیو وائرس کی دو اقسام ہیں۔ ایک ڈبلیو پی وی جو کہ پاکستان اور افغانستان میں موجود ہے۔ جب کہ دوسرا ویکسین سے حاصل کردہ پولیو وائرس (VDPV) ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: