உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا اسکول جانے والے بچوں کیلئے ویکسینیشن ضروری ہوگا؟ جانئے نیتی آیوگ کے رکن وی کے پال نے کیا کہا

    کیا اسکول جانے والے بچوں کیلئے ویکسینیشن ضروری ہوگا؟ جانئے نیتی آیوگ کے رکن وی کے پال نے کیا کہا ۔ فائل فوٹو ۔

    کیا اسکول جانے والے بچوں کیلئے ویکسینیشن ضروری ہوگا؟ جانئے نیتی آیوگ کے رکن وی کے پال نے کیا کہا ۔ فائل فوٹو ۔

    نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے بچوں کی ویکسینیشن کو لے کر بڑی بات کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکول جانے والے بچوں پر ویکسینیشن کا کوئی دباؤ نہیں ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : کورونا کی وبا نے ملک کی پوری معیشت پر اثر ڈالا ہے ، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر ایجوکیشن پر پڑا ہے ۔ پچھلے دو سالوں سے اسکول بند ہیں ۔ کورونا وائرس کی صورتحال بہتر ہونے پر کئی ریاستوں میں اسکول پھر سے کھول دئے گئے ہیں ۔ اب نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے بچوں کی ویکسینیشن کو لے کر بڑی بات کہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکول جانے والے بچوں پر ویکسینیشن کا کوئی دباؤ نہیں ہے ۔

      ڈاکٹر پال نے کہا کہ حکومت بچوں کیلئے ویکسین پر تیزی سے کام کر رہی ہے ۔ اس کیلئے جائیڈس کیڈیلا ویکسین کو منظوری دے دی گئی ہے اور اب تک ویکسین کے ٹرائلس بھی کافی اچھے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین آنے کے بعد کن بچوں کو ویکسین پہلے دی جائے ، اس پر غور و فکر کیا جارہا ہے ۔

      انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک مرتبہ پھر اسکولوں کو کھولا جا رہا ہے ۔ اسکول جانے کیلئے بچوں پر ویکسینیشن کا کوئی دباو نہیں ہے ، بچوں کیلئے ویکسین لازمی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر پال نے کہا کہ اسکولی ٹیچرس اور اسکول کے اسٹاف کیلئے ویکسینیشن لازمی ہے ۔

      بتادیں کہ مرکزی حکومت نے بچوں کو کورونا انفیکشن سے بچانے کیلئے جائیڈس کیڈیلا کی ZyCoV-D ویکسین کو منظوری دیدی ہے ۔ امید کی جارہی ہے یہ ویکسین اکتوبر ماہ تک آجائے گی ۔ جائیڈس کی یہ ویکسین پوری طرح سے دیسی ویکسین ہے اور اس کو 12 سال سے زائد اور 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو دیا جائے گا ۔

      جائیڈس کیڈیلا ویکسین سے پہلے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی کووی شیلڈ ، بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین ، روس کی اسپوتنک وی ، ماڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کا استعمال کیا جارہا تھا ۔ جائیڈس نے یکم جولائی کو ایمرجنسی استعمال کیلئے درخواست دی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: