உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں کورونا کا خوف: ملک کے سب سے بڑے فاؤنڈیشن کا لاشوں کو رکھنے سےانکار

    غور طلب ہے کہ پاکستان میں کوروناوائرس مسلسل تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک جہاں اس سے 11 لوگوں کی موت ہوچکی ہے وہیں اس سے1 ہزار 398 لوگ اس سے متاثر ہیں۔ حالانکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے متاثر لوگوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

    غور طلب ہے کہ پاکستان میں کوروناوائرس مسلسل تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک جہاں اس سے 11 لوگوں کی موت ہوچکی ہے وہیں اس سے1 ہزار 398 لوگ اس سے متاثر ہیں۔ حالانکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے متاثر لوگوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

    غور طلب ہے کہ پاکستان میں کوروناوائرس مسلسل تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک جہاں اس سے 11 لوگوں کی موت ہوچکی ہے وہیں اس سے1 ہزار 398 لوگ اس سے متاثر ہیں۔ حالانکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے متاثر لوگوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

    • Share this:
      کراچی: پاکستان (Pakistan) میں کورونا وائرس(Coronavirus) کے بڑھتے معاملوں کے درمیان ملک کے سب سے بڑے ایدھی فاؤنڈیشن(Edhi Foundation) نے اپنے یہاں لاشوں کو رکھوانے سے منع کردیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے مد نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے اور فاؤنڈیشن نے لاشوں کو رکھنے والے اپنے سبھی سینٹر بند کردئے ہیں۔
      ڈیلی پاکستان کی خبر کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے ایدھی فاؤنڈیشن نے کورونا وائرس کےخوف کی وجہ سے ملک بھر کی لاشوں کو رکھنے والے اپنے سبھی سینٹر بند کردئے ہیں۔ ایک نجی نیوز چینل "ایکسپریس نیوز" سے بات کرتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو کورونا سے مرنے والوں کی لاشیں ہمارے یہاں رکھوا رہے تھے۔ کیونکہ یہ انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے اس لئے ہم اپنے یہاں لاشوں کو نہیں رکھوا سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم نے انہیں رکھنے کی اجازت دے دی تو یہ انفیکشن ہمارے اسٹاف، لاشوں کو نہلانے والے، لاشوں کی ہینڈلنگ کرنے والوں اور دیگر شہریوں کو بھی متاثرہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی اپیل کی ہے کہ لوگ اپنے مرنے والوں کو خود ہی نہلائیں۔

      غور طلب ہے کہ پاکستان میں کوروناوائرس مسلسل تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک جہاں اس سے 11 لوگوں کی موت ہوچکی ہے وہیں اس سے1 ہزار 398 لوگ اس سے متاثر ہیں۔ حالانکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے متاثر لوگوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
      Published by:sana Naeem
      First published: