ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پاک فوج کا ظالمانہ چہرہ: کورونا وائرس کے مریضوں کو جبراً بھیج رہی پاک مقبوضہ کشمیر اور گلگت۔بلتستان

فوج کے سینئر افسران کی جانب سے ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا پورا دھیان رکھا جائے کہ کوئی بھی کوارنٹائن سینٹر فوجی احاطوں کے پاس نہ ہوں۔

  • Share this:
پاک فوج کا ظالمانہ چہرہ: کورونا وائرس کے مریضوں کو جبراً بھیج رہی پاک مقبوضہ کشمیر اور گلگت۔بلتستان
فوج کے سینئر افسران کی جانب سے ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا پورا دھیان رکھا جائے کہ کوئی بھی کوارنٹائن سینٹر فوجی احاطوں کے پاس نہ ہوں۔

اسلام آباد: پاکستان(Pakistan)   میں کورونا وائرس(Coronavirus)  تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کے مد نظر پاکستانی فوج  پاک مقبوضہ کشمیر (POK)   اور گلگت بلتستان (Gilgit Baltistan)  میں کورونا وائرس (COVID-19)  کے مریضوں کو زبردستی منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب صوبہ کے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کیلئے میرپور اور دیگر اہم شہروں میں کوارنٹائن سینٹر (Quarantine Centre) قائم کئے گئے ہیں۔


فوج کے سینئر افسران کی جانب سے ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا پورا دھیان رکھا جائے کہ کوئی بھی کوارنٹائن سینٹر فوجی احاطوں کے پاس نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میر پور شہر اور گلگت بلتستان (Gilgit-Baltistan)  کے دیگر حصوں میں بڑی تعداد میں کوروناوائرس کے مریضوں کو شفٹ منتقل کیا جا رہا ہے۔ وہیں فوج کے زبردستی منتقل کئے جانے کی مخالفت میں مقامی لوگوں نے اھتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پہلے سے ہی بنیادی خدمات اور ڈاکٹرس ملازمین کی کمی ہے۔ ایسے میں فوج کی اس کارروائی سے یہاں کے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ وہیں پاک مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر ان کے علاقے میں علاج کیلئے یہ سینٹر بنائے جاتے ہیں تو وبا پورے علاقے کو اپنے قبضے میں لے لے گی اور کشمیری لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔


حالانکہ پاک فوج کے اعلی عہدیداروں کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ پاکستان کے لئے صوبہ پنجاب کے مقابلے پاک مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے۔ مظفرآباد کے لوگ وبا پھیلنے سے خوفزدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں معمولی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے ہیلتھ سہولیات موجود نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج صرف پنجاب کے بارے میں سوچتی ہے۔


وہیں اس سے پہلے یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے ترجمان ناصر نے پاکستان حکومت پر االزام لگایا ہے کہ  دنیا بھر کے ملک اس وبا (Epidemic)  سے نمٹنے کیلئے جی جان لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن وہیں پاکستان اس کے ذریعے بھی قرض معافی اور بین الاقوامی امداد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دم سنجیدہ نہی جبکہ کورونا نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس سے نمٹنے میں  اٹلی ، جرمنی ، فرانس اور اسپین جیسے جدید طبی سہولیات والے ممالک بھی اس سے نمٹنے کیلئے صلاحیت  نہیں رکھتے ہیں۔

ناصر نے الزام لگایا کہ عمران حکومت ایک سازش کے تحت ملک بھر کے تمام کورونا مریضوں کو پی او کے شہر میر پور شہر میں شفٹ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں کورونا کے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ پی او کے میں ابھی تک صرف ایک کیس سامنے آیا ہے۔ یہاں کے اسپتالوں میں نہ تو لیبارٹری(Laboratory) ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر اور نہ ہی دیگر اسٹاف اتنی مقدار میں ہے۔ جبکہ اس کے برعکس لاہور ، اسلام آباد اور کراچی میں عالمی معیار کے اسپتال موجود ہیں لیکن پھر بھی کورونا وائرس کے مریضوں کو یہاں لانے کا مطلب سمجھ نہیں آرہا۔ ناصر نے بتایا کہ پی او کے کے لوگوں نے بھی اس کے خلاف مظاہرے شروع کردیئے ہیں۔




پاک مقبوضہ کشمیر (pok)کے (Political activist) ناصر عزیز نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان حکومت پنجاب اورسندھ کے کورونا سے متاثر مریضوں کو پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے شہر میرپور میں شفٹ کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان جان بوجھ کر ملک میں کورونا پھیلنے دے رہا ہےجس سے بین الاقوامی امدادحاصل کر سکے۔

First published: Mar 28, 2020 12:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading