ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

نہیں پہنیں گے عید کے کپڑے، چلی گئی نوکری، کاروبار بند لیکن نہیں ٹوٹا حوصلہ، دن رات کر رہے ہیں لوگوں کی مدد

عید کی شاپنگ پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے اسی پیسے سے پریشان حال لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ تنظیم سے جڑے معین پٹیل اور نعیم شیخ نے کہا کہ تنظیم کے بہت سے لوگوں کے پاس کوئی نوکری نہیں ہے جب ان کی ملازمت تھی۔ مہینے میں تنخواہ ملتی تھی تو اسی میں سے سنستھا بھی چلاتے تھے۔

  • Share this:
نہیں پہنیں گے عید کے کپڑے، چلی گئی نوکری، کاروبار بند لیکن نہیں ٹوٹا حوصلہ، دن رات کر رہے ہیں لوگوں کی مدد
عید کی شاپنگ پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے اسی پیسے سے پریشان حال لوگوں کی مدد کی جائے گی۔

ممبئی: رمضان المبارک کا آخری عشرہ جاری ہے، لوگ اپنےگھروں میں عبادت اور ریاضت میں مصروف ہیں اور اللہ سے یہی دعا کررہے ہیں کہ کورونا وبا جیسی جان لیوا بیماری کا اس دنیا سے مکمل خاتمہ ہو جائے اور ایک بار پھر زندگی کی گاڑی پٹری پر آجآئے۔ کورونا کے قہر نے بہت سارے لوگوں کی ملازمت چھین لی، لوگوں کے سامنے نوکری کا مسئلہ کھڑا ہو گیا لیکن اس مشکل گھڑی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے سے زیادہ لوگوں کی فکر کرتے ہیں۔ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ملاڈ ویسٹ مالونی میں یوا شکتی سینا نامی سنستھا ہے جس میں مسلم نوجوان شامل ہیں جو کورونا میں غریبوں اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔


اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت کے پیش نظر یو ا شکتی سینا کے نوجوانوں نے آکسیجن باٹلاضرورت مندوں کے گھروں اور اسپتالوں میں پہنچانے کاکام کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی جو لوگ سچ مچ بے حد ضرورت مند ہیں، ایسے سیکڑوں خاندانوں میں نوجوانوں نےراشن کا کٹ پہنچایا تاکہ ان کی روز مرہ کی ضرورتیں پوری ہو سکیں اور انہیں بھوکا نہ سونا پڑے۔ یہ سنستھا پچھلے سال لاک ڈاؤن سے ہی مستقل طور پر بلا تفریق مذہب و ملت فلاحی کاموں کو انجام دے رہی ہے ، بلڈنگوں میں، چالیوں میں تمام مذہبی مقامات، پولیس اسٹیشنوں میں جاکر سینیٹائزر کیا تھا تاکہ لوگ بیماری سے محفو ظ رہیں۔ تنظیم سے جڑےمسلم نوجوان مل کر متحد ہو کر خد مت خلق کر رہے ہیں۔




کوروناکی دوسری لہر بھی لوگوں کے کاروبار بند ہیں۔ کسی کے پا س روزگارنہیں ہے، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں ان نوجوانوں کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ ان کے پاس جو بھی جمع پونجی ہے۔ اسی سے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اس تنظیم کےرکن امتیاز خان کا کہنا ہے کہ کورونا کا قہر جاری ہے، لوگ پریشان ہیں۔ آکسیجن کی کمی کے سبب لوگ دم توڑ رہے ہیں۔ نظام زندگی درہم برہم ہے۔ ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے سنستھا نے فیصلہ کیا ہے کہ سادگی سے عید منائیں گے۔ نماز گھر پر ادا کریں گے۔



عید کی شاپنگ پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے اسی پیسے سے پریشان حال لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ تنظیم سے جڑے معین پٹیل اور نعیم شیخ نے کہا کہ تنظیم کے بہت سے لوگوں کے پاس کوئی نوکری نہیں ہے جب ان کی ملازمت تھی۔ مہینے میں تنخواہ ملتی تھی تو اسی میں سے سنستھا بھی چلاتے تھے۔



پچھلے سال لاک ڈاؤن لگا کورونا کا زور ختم ہو نے کےبجائے بڑھتا ہی گیا۔ روزگار متاثر ہو گئے۔ کمپنیاں بند ہو گئیں، لوگ پریشان ہو گئے۔ ایسی صورت میں سنستھا کے نوجوان نے ہمت نہیں ہاری جس کے پاس جو بھی جمع پونجی ہے اسی سے مل جل کر لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ حالات کچھ ہوں جائیں۔ ہم ہاریں گے نہیں جیتیں گےنعیم نےمزید کہا کہ اللہ رمضان کی بر کت سے حالات کو بدل دے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 09, 2021 06:02 PM IST