بیوی حسین جہاں کی شکایت کے بعد پھرمحمد شمی کی مشکلات میں ہوسکتا ہے اضافہ

کرکٹرمحمد شمی کی بیوی حسین جہاں نےالہ آباد ہائی کورٹ میں ہتک عزت کی عرضی داخل کی ہے۔ ان کی عرضی پرہائی کورٹ نےسبھی فریق کونوٹس جاری کرکےجواب طلب کیا ہے۔

Jul 31, 2019 10:09 PM IST | Updated on: Jul 31, 2019 10:10 PM IST
بیوی حسین جہاں کی شکایت کے بعد پھرمحمد شمی کی مشکلات میں ہوسکتا ہے اضافہ

کرکٹرمحمد شمی کی اہلیہ کے ہتک عزت کی عرضی پرہائی کورٹ نےسبھی فریق کونوٹس جاری کیا ہے۔ فائل فوٹو

کرکٹرمحمد شمی کی بیوی حسین جہاں کونصف شب اس کے سسرال سےحراست میں لئے جانے کےمعاملے میں یوپی پولیس کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے حسین جہاں کوحراست میں لینے والے پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف ہتک عزت کا نوٹس جاری کرکےان سے جواب طلب کرلیا ہے۔

عدالت نےاس معاملے میں امروہہ ضلع کے ڈیڈولی تھانے کےانچارج اورچاردیگرپولیس سب انسپکٹروں کوہتک عزت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ اگرآگے کی سماعت میں پانچوں پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے توکرکٹرمحمد شمی اوران کےاہل خانہ کی پریشانیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ کیونکہ حسین جہاں کی عرضی میں پولیس والوں پرمحمد شمی اوران کےاہل خانہ کےدباومیں ہی کام کرنےکا الزام لگایا گیا ہے۔

Loading...

پولیس پربھی درج ہوا مقدمہ

اس عرضی میں ڈیڈولی تھانےکےایس ایچ اواورچارسب انسپکٹروں کوملزم بنایا گیا ہے۔ دلیل یہ دی گئی ہےکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کسی خاتون کےگھرپردبش دینا اوراس کی گرفتاری سورج ڈوبنےکے بعد نہیں ہوسکتی ہے۔ ایسے میں امروہہ پولیس نےسپریم کورٹ کےحکم کی توہین کی ہے۔ اسے تب حراست میں لیا گیا، جب اس کےخلاف کوئی کیس نہیں تھا اوروہ نصف شب کوگھرمیں سورہی تھی۔ اس کا موبائل فون چھین لیا گیا تھا اورپولیس نے اس کے ساتھ دھکا مکی کرکےاسے چوٹ بھی پہنچائی تھی۔

عدالت نے پوچھا - کیوں نہ ہوہتک عزت کی کارروائی؟ 

عدالت نےابتدائی طورپران سبھی کوسپریم کورٹ کےڈی کے بسوکیس کی بنیاد پرہتک عزت کا قصوروارمانا ہےاوران سے پوچھا ہےکہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ جسٹس ایم سی ترپاٹھی کی بینچ نےحسین جہاں کی عرضی پرسماعت کرتے ہوئے پانچ ملزم پولیس اہلکاروں سے چارہفتےمیں جواب داخل کرنےکوکہا ہے۔ عدالت اس معاملے میں اب ستمبرماہ میں سماعت کرے گی۔ اگرپولیس اہلکاروں پرکارروائی ہوتی ہے تو کرکٹر محمد شمی اوران کےاہل خانہ کے لوگ بھی مشکل میں پڑسکتے ہیں۔

نصف شب کوشمی کےگھرسے کیا گیا تھا گرفتار

واضح رہےکہ کرکٹرمحمد شمی کا اپنی اہلیہ حسین جہاں سےتنازعہ چل رہا ہے۔ دونوں الگ الگ رہ رہے ہیں۔ حسین جہاں 28 اپریل کو بیٹی اورمیڈ کے ساتھ امروہہ واقع سسرال پہنچ گئیں اورگھرکےاندرداخل ہوگئیں۔ اس دوران سسرال والوں سےان کی کہاسنی بھی ہوئی۔ الزام ہےکہ نصف شب امروہہ کےڈیڈولی تھانےکی پولیس محمد شمی کےگھرپہنچی اورحسین جہاں کوبیٹی اورمیڈ کے ساتھ زبردستی تھانے لےآئی۔  حسین جہاں کورات کے وقت پولیس  کے ذریعہ جیپ میں بٹھا کرتھانہ لانےاورتھانےکےباہرحسین جہاں اورپولیس والوں میں تکرارکی تمام تصویریں اورویڈیو بھی وائرل ہوچکے ہیں۔ حسین جہاں نےنصف شب حراست میں لئے جانےکے خلاف گزشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

Loading...