بنگلہ دیش کے ہندوستان دورہ پرخطرہ، بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے چھوڑا کرکٹ

بنگلہ دیش کوہندوستان میں تین ٹی-20 اوردوٹسٹ میچ کھیلنے ہیں۔ ٹی -20 سیریزتین نومبر اور ٹسٹ 14 نومبرسے شروع ہونی ہے۔

Oct 21, 2019 05:17 PM IST | Updated on: Oct 21, 2019 05:20 PM IST
بنگلہ دیش کے ہندوستان دورہ پرخطرہ، بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے چھوڑا کرکٹ

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم- تصویر: اے پی

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کوآئندہ ماہ ہندوستان دورہ پرآنا ہے، لیکن اس پرخطرات کے بادل منڈرانے لگے ہیں۔ بنگلہ دیش کےسینئرکرکٹرہڑتا ل پرجارہے ہیں۔ کھلاڑی ملک میں کرکٹ کے حالات میں سدھارکا مطالبہ کررہے ہیں۔ کھلاڑیوں نےکرکٹ کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ بنگلہ دیش کےاسٹارکھلاڑی شکیب الحسن نےکہا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہیں، تب تک وہ کرکٹ نہیں کھیلیں گے۔ بنگلہ دیش کوہندوستان میں تین ٹی-20 اوردوٹسٹ میچ کھیلنے ہیں۔ ٹی -20 سیریزتین نومبراورٹسٹ 14 نومبرسے شروع ہونی ہے۔ بائیکاٹ کے سبب بنگلہ دیش کی نیشنل کرکٹ لیگ پراثرپڑے گا۔ یہ لیگ ابھی کھیلی جارہی ہے۔

بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے بورڈ سے کئے 11 مطالبات 

Loading...

ساتھ ہی آئندہ ماہ ہونےوالے ہندوستانی دورہ کےٹریننگ کیمپ پراثرپڑے گا۔ خدشہ ہےکہ کہیں یہ سیریزہی خطرے میں نہ پڑجائے۔ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے بورڈ کے سامنے 11 مطالبات پیش کئے ہیں۔ ان میں بنگلہ دیش پریمیرلیگ (بی پی ایل) کے فرنچائزی ماڈل کو منسوخ  کرنے کے فیصلےکو واپس لینےکا بھی مطالبہ شامل ہے۔ پریس کانفرنس میں شکیب الحسن اور محمود اللہ شامل تھے۔ واضح رہےکہ بورڈ کے حالیہ کچھ فیصلوں کے بعد سے کھلاڑیوں میں ناراضگی ہے۔

ہندوستان کے خلاف ٹی -20 سیریز کےلئے بنگلہ دیش کی ٹیم کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔ ہندوستان کے خلاف ٹی -20 سیریز کےلئے بنگلہ دیش کی ٹیم کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔

شکیب الحسن نے کی تھی مخالفت

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نےگزشتہ دنوں فیصلہ لیا تھا کہ بی پی ایل میں ہرایک ٹیم میں کم ازکم ایک لیگ اسپنرہونا ضروری ہے۔ ساتھ ہی اس نے دو ٹیموں کے چیف کوچ کوبھی معطل کردیا تھا۔ بورڈ کے فیصلوں کے خلاف شکیب الحسن نے آوازاٹھائی تھی۔ انہوں نے ایک مقامی اخبارکودیئےانٹرویومیں کہا تھا کہ نیا ضابطہ کرکٹروں کو دبائے گا۔

شکیب الحسن عالمی کپ میں بنگلہ دیش کے سب سے بہترین کھلاڑی ثابت ہوئے تھے۔ تصویر: اے پی شکیب الحسن عالمی کپ میں بنگلہ دیش کے سب سے بہترین کھلاڑی ثابت ہوئے تھے۔ تصویر: اے پی

بی پی ایل  اکھلاڑی تیارکرنے کی جگہ نہیں

انہوں نے کہا تھا 'کئی سالوں سے ہم سینئرٹیم میں ایک لیگ اسپنرنہیں منتخب کرپائے ہیں، لیکن اچانک سے ہم نے پلان بنایا کہ بی پی ایل میں سات لیگ اسپنرہوں گے۔ یہ فیصلہ حیران کن ہے، لیکن میرا کہنا ہےکہ بورڈ نےایسا فیصلہ لیا ہے، جو اس کولگتا ہےکہ ٹھیک ہے۔ مجھےلگتا ہے کہ لیگ اسپنرس کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں کافی گیند بازی کرنی چاہئے تاکہ انہیں خود اعتمادی اورتسلسل حاصل ہو۔ بی پی ایل بین الاقوامی سطح کا ٹورنامنٹ ہے، جہاں آپ کے سامنے ایسے حالات آتے ہیں، جیسےانٹرنیشنل کرکٹ میں ہوتے ہیں۔ آپ غیرملکی کرکٹروں کےساتھ ڈریسنگ روم شیئرکرتے ہیں، یہ کھلاڑی تیارکرنے کی جگہ نہیں ہے'۔

Loading...