ورلڈ کپ 2019: میچ کے بعد ہوٹل میں اس کرکٹر نے کی خاتون سے بدتمیزی، ایک سال کیلئے ٹیم سے باہر

ورلڈ کپ 2019 کرکٹروں کے برتاؤ کو لیکر بھی سرخیوں میں رہا ہے۔ ابھی ورلڈ کپ ختم بھی نہیں ہوا ہے کہ ایک کرکٹر کو ورلڈ کپ میچ کے بعد ہوٹل میں کی گئی غلطی کے مد نظر ایک سال کیلئے ٹیم سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔

Jul 11, 2019 12:31 PM IST | Updated on: Jul 11, 2019 02:25 PM IST
ورلڈ کپ 2019: میچ کے بعد ہوٹل میں اس کرکٹر نے کی خاتون سے بدتمیزی، ایک سال کیلئے ٹیم سے باہر

ورلڈ کپ 2019 کرکٹروں کے برتاؤ کو لیکر بھی سرخیوں میں رہا ہے۔ ابھی ورلڈ کپ ختم بھی نہیں ہوا ہے کہ ایک کرکٹر کو ورلڈ کپ میچ کے بعد ہوٹل میں کی گئی غلطی کے مد نظر ایک سال کیلئے ٹیم سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ پہلے ورلڈ کپ کے درمیان میں ہی کرکٹ دنیا کے سب سے بڑا ادارے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نے ٹیم سےفوراً باہر کرنے کیلئے کہہ دیا تھا۔ اس بابت ورلڈ کپ کے بیچ میں ہی اس کھلاڑی کو ملک واپس بھیج دیا گیا تھا۔

حالانکہ تب آئی سی سی نے کھلاڑی کے ذریعے کی گئی غلطی کو واضح طور پر نہیں بتایا تھا۔ بعد میں جب ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا کردار نبھانے کے بعد ملک واپس پہنچی تو کھلاڑی کو لیکر ڈسکشن شروع ہوا۔ پھر ملک کے کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے کھلاڑی کو لیکر مکمل طور پروضاحت سے بات کی۔ اس دوران آئی سی سی نے کھلاڑی کو لیکر پوری بات ملک کے کرکٹ بورڈ کو بتائی تو اس وقت ملک کے کرکٹ بورڈ نے اس کھلاڑی کو ٹیم سے ایک سال کیلئے باہر نکال دیا۔

یہ معاملہ افغانستان کرکٹ بورڈ اور افغانستان کے تیز گیند باز آفتاب عالم سے جڑا ہے۔ افغان کرکٹ بورڈ نے اپنے اس تیز گیند باز کو آئی سی سی کی مداخلت کے بعد ایک سال کیلئے ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بورڈ اس کھلاڑی کے ساتھ سال بھر کے کانٹریکٹ (معاہدے) بھی ختم کرلے گا۔ ایسے میں انہیں بورڈ سے ملنے والے ریگولر بھتے اور فیس بھی بند ہو جائے گی۔۔

Loading...

خبروں کے مطابق آفتاب عالم کو  ورلڈ کپ کے دوران ہوٹل میں ایک مہمان خاتون کے ساتھ بیحد بد تمیزی کے چلتے افغانستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔  یہ واقعہ ساؤتھ کیپٹن کے اس ہوٹل میں پیش آیا جہاں پر افغانستان کی ٹیم ٹھہری ہوئی تھی۔ ویسے آئی سی سی نے آفتاب عالم کے ٹورنامنٹ سے ہٹنے کے سبب کے طور پر بتایا تھا کہ کچھ خاص حالات کی وجہ سے انہیں واپس بھیجا گیا ہے۔ وہیں افغانستان کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ وہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کو توڑنے کے مد نظر بلائے گئے ہیں۔

Loading...