آئی پی ایل کے دیوانوں کو ملےگی خوشخبری، دو نئی ٹیموں کو شامل کرے گی بی سی سی آئی

بی سی سی آئی نے 8 سال پہلے 2011 میں بھی ٹیموں کی تعداد 10 کی تھی، لیکن کئی تنازعات کے سبب تین سال بعد دو نئی ٹیموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔

Jul 14, 2019 04:28 PM IST | Updated on: Jul 14, 2019 04:28 PM IST
آئی پی ایل کے دیوانوں کو ملےگی خوشخبری، دو نئی ٹیموں کو شامل کرے گی بی سی سی آئی

آئی پی ایل 2019 کا خطاب ممبئی انڈینس نے جیتا تھا۔

آئی پی ایل میں دو سال بعد یعنی 2021 تک 8 کے بجائے 10 ٹیمیں کھیلتی ہوئی نظرآسکتی ہیں۔ دونئی ٹیموں کو شامل کرنے کے لئے بی سی سی آئی میں کافی غوروخوض کی جارہی ہیں اورتیزی سے تیاروں کو آخری شکل دیا جارہا ہے۔ احمد آباد، پنےاوررانچی یا جمشید پور میں سے دو ٹیمیں 2021 آئی پی ایل میں نظرآسکتی ہیں۔ احمد آباد کے لئے اڈانی گروپ، پنے کےلئےآرپی جی - سنجیوگوینکا گروپ اوررانچی یا جمشید پورمیں سے کسی ایک شہرکے لئےٹاٹا گروپ ریس میں ہیں۔

واضح رہے کہ بی سی سی آئی نے 8 سال پہلے 2011 میں بھی ٹیموں کی تعداد 10 کی تھی، لیکن کئی تنازعہ کے بعد تین سال بعد دونئی ٹیموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔ ٹائمس آف انڈیا کی خبرکے مطابق دونئی ٹیموں کوشامل کرنے کے لئے بلوپرنٹ بنایا جارہا ہے۔ اسکیم تیارہوچکی ہے۔ اب ٹینڈرعمل پرکام کیا جارہا ہے ہے۔ اس بارے میں بات چیت کے لئے ہفتہ کو لندن میں موجودہ ٹیموں کے مالک اورافسرملے تھے۔ اس میں مانا گیا ہے کہ دو نئی ٹیموں کے آنے سے آئی پی ایل کو فائدہ ہوگا۔ بی سی سی آئی کے سی ای او راہل جوہری نے بھی اس بارے میں تصدیق کی ہے، لیکن انہوں نے میٹنگ کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا۔

Loading...

احمد آباد میں موٹیرا اسٹیڈیم نئے سرے سے کھڑا ہوچکا ہے۔ اب اس میں ایک لاکھ شائقین بیٹھ سکتے ہیں اوریہ دنیا کا کرکٹ اسٹیڈیم ہوگا۔ ایسے میں آئی پی ایل کے لئے اس شہرکی دعویداری مضبوط ہے۔ اڈوانی گروپ نے 2010 میں بھی احمد آباد کی فرنچائزی کی کوشش کی تھی، لیکن اس وقت اسے ناکامی ملی تھی۔

پنے کا دعویٰ مضبوط

پنے فرنچائزی 2011 میں سہارا گروپ نے حاصل کی تھی اوراس کی ٹیم سہارا پنے واریئرس کے نام سے تھی، لیکن 2013 میں یہ ٹیم ہٹ گئی تھی۔ اس کے بعد 2016 میں چنئی سپرکنگس اورراجستھان رائلس کو دوسال کے لئے بین کیا گیا تھا، تب سنجیو گوینکا کی کمپنی آرپی جی پی گروپ نے رائزنگ پنے سپرجوائنٹ کے نام سے ٹیم بنائی تھی۔ ان کی ٹیم دو سال تک رہی تھی اوراب وہ پوری طرح سے آئی پی ایل سے جڑنا چاہتے ہیں۔ گوینکا کی انڈین سپرلیگ میں کولکاتا فرنچائزی ہے اوروہ گزشتہ کچھ سالوں سے دہلی کیپٹلس اورراجستھان رائلس سے جڑنا چاہتے تھے، لیکن انہیں وہاں کامیابی نہیں ملی تھی۔ ایسے میں اب وہ نئی فرنچائزی کے لئے بولی لگانے کوتیارہے۔

ipl-1

ٹاٹا گروپ کی جمشید پورمیں دلچسپی

وہیں ٹاٹا گروپ بھی کھیل سے جڑا رہا ہے۔ حالانکہ کرکٹ سے اس کی دوری ہی رہی ہے۔ انہوں نے کچھ سال قبل ہی آئی ایس ایل میں جمشید پورفرنچائزی خریدی تھی۔ اب مانا جارہا ہے کہ رتن ٹاٹا کا گروپ کرکٹ میں بھی اترسکتا ہے۔ جمشید پورکرکٹ میچ کی میزبانی بھی کرچکا ہے۔ 2006 میں یہاں آخری بارونڈے کھیلا گیا تھا۔ وہیں رانچی کا نام بھی چل رہا ہے۔ ایم ایس دھونی رانچی سے آتے ہیں اوریہاں پرورلڈ کلاس کرکٹ اسٹیڈیم بھی ہے۔

لکھنو - کانپورکی بھی مانگ

ان کے علاوہ ایک کاروباریوں کا گروپ بھی ہے، جواترپردیش میں کانپوریا لکھنو کی فرنچائزی لینا چاہتے ہیں۔ بی سی سی آئی کےسابق ایڈمنسٹریٹربھی ان کی حمایت کررہے ہیں۔

Loading...