عالمی کپ 2019: ٹیم انڈیا کے پاس ہےایسی جوڑی، جوجانتی ہےکہ کیسےبنتےہیں چمپئن

ورلڈ کپ 2019 میں ٹیم انڈیا کے پاس چمپئنزکی ایسی جوڑی، جو باقی دنیا کو فیل کرسکتی ہے۔

Apr 16, 2019 06:10 PM IST | Updated on: Apr 16, 2019 06:10 PM IST
عالمی کپ 2019: ٹیم انڈیا کے پاس ہےایسی جوڑی، جوجانتی ہےکہ کیسےبنتےہیں چمپئن

ٹیم انڈیا کے پاس عالمی کپ 2019 کے لئے ایسی جوڑی ہے، جودنیا کوکرسکتی ہے فیل۔

تجربہ ایسی چیزہے، جس کا کوئی توڑنہیں ہے۔ وہ تجربہ ہے، جونوجوان جوش کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ اس عالمی کپ میں کم ازکم اس بات کے لئے ہندوستانی ٹیم کے پاس کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ بلکہ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پہلی بارٹیم انڈیا کی کمان دوعالمی کپ فاتح کے ہاتھ میں ہوگی۔ یہ دونام ہیں کپتان وراٹ کوہلی اورکوچ روی شاستری۔

وراٹ کوہلی کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ 2011 عالمی کپ کی فاتح ٹیمکا حصہ تھے بلکہ یوراج سنگھ، ہربھجن سنگھ اوروراٹ کوہلی جیسے کھلاڑی تھے، جنہوں نے سچن تندولکرکوکندھے پربٹھا کروانکھیڑے اسٹیڈیم کا چکرلگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وراٹ 2015 کی ٹیم کا بھی حصہ تھے، تب وہ مہندرسنگھ دھونی کے نائب یعنی نائب کپتان تھے، اس باروہ کپتان ہوں گے۔

Loading...

وراٹ کوہلی کے ساتھ ٹیم کے کوچ روی شاستری ہوں گے۔ شاستری عالمی کپ فاتح اس ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ 1983 میں شاستری تقریباً 21 سال کے تھے، جب انہوں نے ہندوستانی ٹیم کے ساتھ عالمی کپ جیتا تھا۔ حالانکہ تب وہ بہت جونیئرتھے، لیکن اس باروہ ٹیم کے سب سے سینئررکن یعنی کوچ کے طورپرہیں۔

ایک وقت تھا، جب ہندوستانی ٹیم کے ساتھ کوئی کوچ نہیں ہوتا تھا۔ ایک مینیجرہوتا تھا، جس کے ساتھ کام چلایا جاتا تھا۔ 1983 کی عالمی کپ فاتح ٹیم میں بھی ٹیم کےساتھ کوچ نہیں مینیجرتھے۔ ان کا نام تھی پی آرمان سنگھ۔ حیدرآباد کے پی آرمان سنگھ کو مین مینیجمنٹ میں ماہرمانا جاتا تھا۔

پہلی بارہندوستانی ٹیم کوچ کے ساتھ عالمی کپ کا حصہ بنی۔ وہ 1992 تھا۔ آسٹریلیا میں عباس علی بیگ ہندوستانی ٹیم کے کوچ تھے۔ حالانکہ ٹیم کی کارکردگی وہاں اچھی نہیں رہی تھی۔ 1996 میں اجیت واڈیکرکوچ تھے۔ وہ عالمی کپ زیادہ ترلوگوں کویاد ہوگا، جب سری لنکا کے خلاف کولکاتا میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں شائقین نے میدان پرپتھراو کردیا تھا۔ اس کےبعد ہندوستان باہرہوگیا تھا۔

سال 1999 میں انشومان گایکواڈ انگلینڈ میں کھیلے گئےعالمی کپ میں ٹیم کے ساتھ کوچ تھے۔ 2003 میں نیوزی لینڈ کے جان رائٹ ٹیم کے ساتھ تھے۔ یہ پہلی بارتھا کہ کوئی غیرملکی ہندوستانی ٹیم کوعالمی کپ مہم میں لے کرگیا۔ یہاں ہندوستانی ٹیم فائنل میں پہنچی۔ 2007 میں گریگ چیپل کے ساتھ ٹیم انڈیا ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئےعالمی کپ میں بری طرح فلاپ رہی تھی۔ 2011 میں جنوبی افریقہ کے گیری کرسٹن آئے۔

ہندوستان میں کھیلے گئےعالمی کپ کا فائنل ٹیم انڈیا نے ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں جیتا۔  گزشتہ عالمی کپ آسٹریلیا میں کھیلا گیا تھا، تب ڈنکن فلیچرٹیم کے ساتھ تھے۔ زمبابوے کے فلیچرہندوستان سے پہلےانگلینڈ ٹیم کے کوچ رہ چکے تھے، لیکن ہندوستانی ٹیم اس بارکامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

Loading...