شرمناک: 30 لوگوں نے 2 سال تک کی نابالغ کی عصمت دری، نہیں چاہتی باپ کو ہو جیل، دروازے پر لکھا ’ معاف کرنا اماں‘۔

بچی کے ماں۔ باپ کو بیٹی کے جنسی استحصال کی پوری جانکاری تھی۔ لیکن دونوں پیسوں کی خاطر خاموش رہے۔ بچی کے جنسی استحصال کی شروعات 10 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی۔

Sep 26, 2019 06:46 PM IST | Updated on: Sep 26, 2019 07:05 PM IST
شرمناک: 30 لوگوں نے 2 سال تک کی نابالغ کی عصمت دری، نہیں چاہتی باپ کو ہو جیل، دروازے پر لکھا ’ معاف کرنا اماں‘۔

علامتی تصویر

ملاپورم۔ کیرالہ کے ملاپورم میں ایک نابالغ بچی ( 12 سال) کی اس کے شوہر کے 30 واقف کاروں نے دو سال تک عصمت دری کی۔ بچی کے ماں۔ باپ کو بیٹی کے جنسی استحصال کی پوری جانکاری تھی۔ لیکن دونوں پیسوں کی خاطر خاموش رہے۔ بچی کے جنسی استحصال کی شروعات 10 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی۔ تب سب سے پہلے اس کے باپ کے ایک دوست نے اس کی عصمت دری کی۔ یہ شخص اس کے کنبہ کی معاشی مدد کرتا تھا۔ اس کے بعد اس استحصال میں ایک کے بعد ایک 30 لوگ ملوث ہو گئے۔

اسکول میں کاؤنسلنگ کے دوران بچی نے سنائی آپ بیتی

معاملہ تب سامنے آیا جب گھر کے نزدیک ہی ایک اسکول میں 8 ویں کلاس میں پڑھنے والی اس بچی نے کاؤنسلنگ سیشن کے دوران پوری کہانی سنائی۔ بچی کی آپ بیتی سن کر کاؤنسلر حیران رہ گئی تھیں۔ ان کے مطابق، اتنے استحصال کے بعد بچی اس بات کو لے کر پریشان تھی کہ وہ کنبہ کی معاشی طور پر مدد نہیں کر پا رہی ہے۔ معاملہ کے انکشاف کے بعد بچی کو ہفتہ کے روز شیلٹر ہوم میں بھیج دیا گیا۔ حیرانی والی بات تو یہ ہے کہ بچی جب شیلٹر ہوم جا رہی تھی تو اس نے گھر کے دروازے پر چاک سے انگریزی میں ساری اماں لکھ دیا۔ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے باپ کو سزا ملے، کیونکہ انہیں جیل ہونے سے اس کا گھر معاشی بحران میں مبتلا ہو جائے گا۔

Loading...

کاؤنسلر نے بتایا ، بچی کو جنسی استحصال کا احساس نہیں

کیرالہ پبلک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ کام کرنے والی کاؤنسلر نے بتایا کہ جب بچی سے پوچھا گیا کہ اس کے گھر میں کیا چل رہا ہے تو وہ رونے لگی۔ اس نے بتایا کہ اس کے گھر میں بیمار دادی ہیں۔ ان کی معاشی حالت بہت خراب ہے۔ وہ گھر کا کرایہ تک نہیں دے پا رہے ہیں۔ اسے کنبہ کی حالت کی فکر تو تھی، لیکن اپنے جنسی استحصال کا احساس تک نہیں تھا۔ بچی نے کاؤنسلر کو بتایا کہ ایک تیسرا شخص اس کی عصمت دری کرنے والوں سے پیسے وصول کرتا تھا۔ لیکن وہ اس سے کبھی ملی نہیں تھی۔ کاؤنسلر کو لگتا ہے کہ بچی کے بے روزگار باپ نے پہلے اس کی ماں کو جنسی کاروبار میں دھکیلا تھا۔

پولیس نے تین لوگوں کو کیا گرفتار، باقی کی تلاش جاری

ترورنگدی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر نوشاد ابراہیم نے بتایا کہ اتوار کو ایک مجسٹریٹ کے سامنے بچی کا بیان درج کیا گیا۔ طبی رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق ہوئی ہے۔ اتوار رات کو ہی بچی کے ماں۔ باپ سمیت تین لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دو لوگوں پر پاکسو ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دفعہ 354 اور 376 کے تحت مقدمہ چلے گا۔ وہیں، بچی کے باپ پر جوینائل جسٹس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ملاپورم کے ڈی ایس پی نے بتایا کہ باقی لوگوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔

Loading...