رتلام: شادی شدہ خاتون کا اغوا کر کے کی اجتماعی عصمت دری، پرائیویٹ پارٹ کو سگریٹ سے داغا

متاثرہ کے ساتھ جب اس گھنونی حرکت کو انجام دیا جا رہا تھا تب اس کی دو سال کی معصوم بیٹی بھی اس کے ساتھ تھی۔ ملزمان میں خاتون کا سابق شوہر اور اس کے چار رشتہ دار شامل بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔

Oct 09, 2019 09:53 AM IST | Updated on: Oct 09, 2019 10:03 AM IST
رتلام: شادی شدہ خاتون کا اغوا کر کے کی اجتماعی عصمت دری، پرائیویٹ پارٹ کو سگریٹ سے داغا

علامتی تصویر

مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام کے آلوٹ تھانہ علاقہ میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک شادی شدہ خاتون کا اغوا کر کے اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ ملزمان نے عصمت دری کے دوران متاثرہ کے پرائیویٹ پارٹ کو سگریٹ سے بھی داغا۔ اس کے بعد متاثرہ کو زہر پلا کر اسے مارنے کے مقصد سے سڑک پر پھینک دیا اور پھر فرار ہو گئے۔

متاثرہ کے ساتھ جب اس گھنونی حرکت کو انجام دیا جا رہا تھا تب اس کی دو سال کی معصوم بیٹی بھی اس کے ساتھ تھی۔ ملزمان میں خاتون کا سابق شوہر اور اس کے چار رشتہ دار شامل بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔

Loading...

متاثرہ کے مطابق، ایک ماہ پہلے ہی اس سے طلاق لے چکے پہلے شوہر نے اس کے موجودہ شوہر کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ اس معاملہ میں متاثرہ اصل گواہ ہے۔ اس لئے ملزمان اس پر بیان بدلنے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے، لیکن متاثرہ کے ایسا کرنے سے منع کرنے پر سابق شوہر نے اس وحشیانہ حرکت کو انجام دیا۔

الزام ہے کہ پیر کے روز خاتون کپڑے سلوانے کے لئے جا رہی تھی، اسی وقت راستے میں پہلے شوہر نے اپنی بہن، بہنوئی اور دو بھانجوں کے ساتھ مل کر اسے اغوا کر لیا۔ خاتون کو پیر کی رات کھیت میں لے جا کر پہلے تو ملزمان نے جم کر شراب پی پھر پہلے شوہر کے دونوں بھانجوں نے اس کی عصمت دری کی اور اس کے پرائیویٹ پارٹ کو سگریٹ سے داغا۔ اس کے بعد بھی خاتون بیان بدلنے کے لئے نہیں مانی تو اس کے پہلے شوہر نے اسے زہر پلا کر سڑک پر پھینک دیا۔

 گاؤں والوں کی نظر سڑک پر بیہوش حالت میں لیٹی ہوئی خاتون پر گئی۔ انہوں نے اس کی اطلاع پولیس کو دی اور متاثرہ کو تال قصبے کے سرکاری اسپتال میں بھرتی کروایا۔ متاثرہ کی حالت نازک دیکھ کر اسے رتلام کے ضلع اسپتال میں ریفر کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔

رتلام پولیس نے چاروں ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ ملزمان میں سے ایک خاتون کی گرفتاری ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔

Loading...