لڑکوں کے جنسی استحصال کے خلاف پولیس میں ایمرجنسی رپورٹنگ کی ضرورت

بچوں کی زیادتی کے سبھی معاملوں کی ایف آئی آر میں پوکسو ایکٹ کو نافذ کرنا ایک قانونی ضرورت ہے اور اس میں سے کسی بھی طرح کی لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔

Oct 23, 2019 05:56 PM IST | Updated on: Oct 23, 2019 06:33 PM IST
لڑکوں کے جنسی استحصال کے خلاف پولیس میں ایمرجنسی رپورٹنگ کی ضرورت

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق سال 2017 میں پورے ہندستان میں بچوں کے خلاف کل 1,29,032 جرائم ہوئے ہیں۔ جبکہ 2016 میں بچوں کے خلاف 1,06,958جرائم درج کئے گئے ہیں۔ سال 2017 کے دوران بچوں کے ساتھ پیش آئے ریپ کے کل 17,557 معاملوں کو درج کیا گیا ۔ حالانکہ بچوں کے ساتھ پیش آئے ریپ کے 10,059 معاملوں کو پوکسو ایکٹ سے نہیں جوڑا گیا تھا۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق سال 2017 میں پورے ہندستان میں بچوں کے خلاف کل 1,29,032 جرائم ہوئے ہیں۔ جبکہ 2016 میں بچوں کے خلاف 1,06,958جرائم درج کئے گئے ہیں۔ سال 2017 کے دوران بچوں کے ساتھ پیش آئے ریپ کے کل 17,557 معاملوں کو درج کیا گیا ۔ حالانکہ بچوں کے ساتھ پیش آئے ریپ کے 10,059 معاملوں کو پوکسو ایکٹ سے نہیں جوڑا گیا تھا۔

یہ حقیقت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یا تو پولیس افسران کو پوکسو ایکٹ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے یا پھر وہ اس ایکٹ کو جاننے کے خواہشمند نہیں ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یا تو پولیس افسران کو پوکسو ایکٹ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے یا پھر وہ اس ایکٹ کو جاننے کے خواہشمند نہیں ہیں۔

Loading...

غور طلب ہے بچوں سے زیادتی کے معاملوں میں پوکسو ایکٹ ایک سخت قانون ہے اور اس کا مقصد ان متاثر بچوں کو انصاف دلانا ہے جو جنسی تشدد کے شکار پو چکے ہیں۔ متاثر بچوں کو انصاف دلانے کا یہ سب سے بڑا قدم ہے ۔جس کو اضلاع اورریاستوں کے پولیس سربراہوں کے ذریعے نوٹس لیا جانا چاہئے تاکہ اس سمت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔ غور طلب ہے بچوں سے زیادتی کے معاملوں میں پوکسو ایکٹ ایک سخت قانون ہے اور اس کا مقصد ان متاثر بچوں کو انصاف دلانا ہے جو جنسی تشدد کے شکار پو چکے ہیں۔ متاثر بچوں کو انصاف دلانے کا یہ سب سے بڑا قدم ہے ۔جس کو اضلاع اورریاستوں کے پولیس سربراہوں کے ذریعے نوٹس لیا جانا چاہئے تاکہ اس سمت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔

بچوں کی زیادتی کے سبھی معاملوں کی ایف آئی آر میں پوکسو ایکٹ کو نافذ کرنا ایک قانونی ضرورت ہے اور اس میں سے کسی بھی طرح کی لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ بچوں کی زیادتی کے سبھی معاملوں کی ایف آئی آر میں پوکسو ایکٹ کو نافذ کرنا ایک قانونی ضرورت ہے اور اس میں سے کسی بھی طرح کی لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔

 

رپورٹ کے ایک حصے سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2017 کے دوران صرف 940 مقدمات ہی پوکسو ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔  جس میں متاثر جو تھے وہ  لڑکے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں لڑکوں کی آبادی 23 کروڑ 2 لاکھ ہے۔ رپورٹ کے ایک حصے سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2017 کے دوران صرف 940 مقدمات ہی پوکسو ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔  جس میں متاثر جو تھے وہ  لڑکے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں لڑکوں کی آبادی 23 کروڑ 2 لاکھ ہے۔

وقت کا تقاصہ ہے کہ سماج میں بیداری پیدا کی جائے تاکہ لڑکوں کے جنسی استحصال کی رپورٹ درج کرنے میں کسی بھی ناپسندی بے حسی اور لاپرواہی کو ختم کیا جاسکے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق مقدمات کی آزادانہ طور پررپورٹنگ کی جائے اور ان معاملات کو بھی درج کیا جانا چاہئے۔ وقت کا تقاصہ ہے کہ سماج میں بیداری پیدا کی جائے تاکہ لڑکوں کے جنسی استحصال کی رپورٹ درج کرنے میں کسی بھی ناپسندی بے حسی اور لاپرواہی کو ختم کیا جاسکے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق مقدمات کی آزادانہ طور پررپورٹنگ کی جائے اور ان معاملات کو بھی درج کیا جانا چاہئے۔

Loading...