نابالغ لڑکی کو آدھی رات اٹھاکر لے گیاتھا ہیڈ کانسٹیبل، میڈیکل میں ہوئی ریپ کی تصدیق

اس کی بہن نے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا ھا۔ بعد میں گاؤں والوں نے ہیڈ کانسٹیبل کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ پولیس نے اس کے خلاف دفعہ 363 اور 366 اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا

Sep 20, 2019 10:05 AM IST | Updated on: Sep 20, 2019 10:05 AM IST
نابالغ لڑکی کو آدھی رات اٹھاکر لے گیاتھا ہیڈ کانسٹیبل، میڈیکل میں ہوئی ریپ کی تصدیق

علامتی تصویر

سونی پت: مرتھل تھانہ علاقے کے گاؤں سے ہیڈ کانسٹیبل نے آدھی رات کو ایک نابالغ لڑکی کو جبراً اپنی کار میں بٹھاکر لے جانے کے معاملے میں  ریپ کا مقدمہ درج کیاگیاہے۔ ایک دن پہلے جبرا لے جانےکا مقدمہ درج ہونے کے بعد منگل کو گاؤں میں ہوئی پنچایت میں لڑکی کو سمجھایا گیا۔ جس پر اس نے میڈیکل کرانے کی بات کہی۔ میڈیکل کرانے پر لڑکی سے ریپ کئے جانے کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد پولیس نے ریپ اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیاہے۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں اسے جیل بھیج دیا گیا۔

کار میں بیٹھا مرتھ تھانہ علاقے کے گاؤں کا رہنے والے شخص نے پیر کو پولیس کو بتایا تھا کہ اتوار کی رات سوا 12 بجے ایک کار سوار شخص ان کے گھر کے باہر آیا تھا اور ان کے گھر کا دروازہ کھلوایا تھا۔ اس کی 16 سالہ بہن کے دروازہ کھولتے ہی کار سوار اس کی بہن کو کار میں زبردستی بٹھاکر لے گیا تھا۔ اہل خانہ کو جب پتہ لگا تو انہوں نے لڑکی کی تلاش شروع کردی تھی۔ جس پر علی الصبح 3 بج کر 6 منٹ پر کار سوار واپس آیا تو انہوں نے اسے گھیر لیا تھا۔

Loading...

Accused

کار میں اس کی بہن سوار تھی اور رورہی تھی۔ کار سوار واپس بھاگنے لگا تو انہوں نے شیشے پر ہاتھ مارا تھا جس سے شیشا ٹوٹ گیاتھا۔ انہوں نے کار سوار کو اتار لیا تھا۔ کار سوار کی پہچان ہیڈ کانسٹیبل انل کے طور پر ہوئی تھی۔ اس کی بہن نے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا ھا۔ بعد میں گاؤں والوں نے ہیڈ کانسٹیبل کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ پولیس نے اس کے خلاف دفعہ 363 اور 366 اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

معاملے کو لیکر پنچایت ہوئی جس میں لڑکی کو سمجھایا گیا کہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو وہ اسے دبانے کی کوشش نہ کریں۔ اسے بتایا گیا ہے کہ یہ اس کی عزت کا سوال ہے اور ملزم کو سزا ملنی چاہئے۔ جس کے بعد لڑکی نے اپنا میڈیکل کرانے کی بات کہی۔ پولیس ٹیم اسے اسپتال میں لیکر پہنچی جہاں پر اس کا میڈیکل کرایا گیا۔ میڈیکل میں ریپ کی تصدیق ہو گئی۔ جس پر پولیس نے معاملے میں ملزم ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف درج  مقدمے میں دفعہ 376 اورپوکسو ایکٹ  کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔

لڑکی کے اہل خانہ نے بتایا ملزم نے ان کی بیٹی کو شادی کرنے کا جھانسہ دیکر اس کا ریپ کیا تھا۔ ساتھ ہی بعد میں اسے ڈرایا بھی گیا تھا۔ پنچایت میں اسے سمجھانے کے بعد وہ میڈیکل کرانے کو تیار ہوئی جس میں ریپ کی تصدیق ہوگئی۔

 

Loading...