اٹھارہ سالہ لڑکی کی پانچ لڑکوں نے کی اجتماعی آبروریزی ، مگر نہیں چلے گا کیس ، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

جرمنی میں 18 سال کی ایک لڑکی کی پانچ لڑکوں نے دیر شام ایک پارک میں اجتماعی آبروریزی کی ۔ یہی نہیں اس گھنونی حرکت کا ان ملزمین نے ویڈیو بھی بنایا ۔

Jul 11, 2019 07:53 PM IST | Updated on: Jul 11, 2019 09:09 PM IST
اٹھارہ سالہ لڑکی کی پانچ لڑکوں نے کی اجتماعی آبروریزی ، مگر نہیں چلے گا کیس ، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

علامتی تصویر

جرمنی میں 18 سال کی ایک لڑکی کی پانچ لڑکوں نے دیر شام ایک پارک میں اجتماعی آبروریزی کی ۔ یہی نہیں اس گھنونی حرکت کا ان ملزمین نے ویڈیو بھی بنایا ۔ واقعہ کے بعد جائے واردات پر پہنچی پولیس نے متاثرہ لڑکی کو اسپتال میں داخل کرایا ۔ اس کے بعد پانچوں ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ، لیکن اس میں سے دو کی عمر صرف 12 سال ہے ، جس کی وجہ سے ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ۔

پولیس کی طرف سے اس معاملہ میں زیادہ جانکاریاں شیئر نہیں کی گئی ہیں ، لیکن مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے ۔ سبھی ملزمین آبائی طور پر بلغاریہ کے رہنے والے ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمین متاثرہ لڑکی کو پارک میں جھاڑیوں کے پیچھے لے گئے ، جہاں انہوں نے لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کی ۔ اس واقعہ کا انہوں نے اپنے فون سے ویڈیو بھی بنایا ۔ کتوں کے مسلسل بھونکنے کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کو بلایا۔

Loading...

پولیس کو دیکھ کر پانچوں لڑکے فرار ہوگئے ۔ اس کے بعد متاثرہ لڑکی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ متاثرہ کے بیان پر پانچوں ملزمین کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔ ان میں دو کی عمر 12 سال ہے جبکہ تین 14-14 سال کا ہے ۔ جرمنی میں موجودہ قانون کے مطابق 12 سال کے لڑکوں پر مجرمانہ مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے ، لیکن اس کے رویہ کو لے کر یوتھ ویلفیر آفس کام کرے گا ۔

واقعہ کے بعد سبھی ملزمین کو اسکول سے بھی باہر کا راستہ دکھادیا گیا ہے ۔ ایک لڑکے کو جج کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بتایا جارہا ہے کہ متاثرہ لڑکی ذہنی طور پر معذور تھی ۔

خیال رہے کہ مجرمانہ مقدمہ کیلئے جرمنی میں کم سے کم عمر 14 سال ہے جبکہ انگلینڈ اور شمالی آئیرلینڈ میں کم سے کم 10 سال کی عمر میں مجرمانہ کیس چلایا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد جرمنی میں مجرمانہ مقدمہ کیلئے عمر کی حد کم کرنے کے مطالبہ میں شدت آگئی ہے ۔

Loading...