کھلے عام چل رہا تھا جسم فروشی کا کاروبار، پولیس کی ریڈ میں سامنے آیا سچ

پولیس کے پہنچنےسےگھبرائے لوگوں میں ایک 13 سال کا لڑکا پانی سے بھرے گڈھے میں کود گیا، جس سےاس کی موت ہوگئی۔

Oct 26, 2019 10:06 PM IST | Updated on: Oct 26, 2019 10:06 PM IST
کھلے عام چل رہا تھا جسم فروشی کا کاروبار، پولیس کی ریڈ میں سامنے آیا سچ

بہارمیں سامنے آیا سیکس ریکٹ کا سچ۔

سیتا مڑھی: بہارکے سیٹامڑھی کےنگرتھانہ کے ریڈ لائٹ علاقے میں ہفتہ کو ایک این جی او کی نشان دہی پرسیکس ریکٹ کے دلدل میں پھنسی لڑکیوں کو پولیس نے آزاد کرایا۔ پولیس کے پہنچنےسےگھبرائے لوگوں میں ایک 13 سال کا لڑکا پانی سے بھرے گڈھے میں کود گیا، جس سےاس کی موت ہوگئی۔ وہیں پولیس نے سیکس ریکٹ میں شامل 4 لڑکیوں کو حراست میں لےلیا ہے اورپولیس کے اس آپریشن میں کئی دلال بھی گرفتارکئے گئے۔

پانی میں ڈوبنےسے بچے کی ہوئی موت پرریڈ لائٹ میں رہنے والے لوگوں نے جم کرہنگامہ کیا اورلاش کےساتھ مظاہرہ کرنےلگے۔ جائے حادثہ کے ماحول کو کشیدہ دیکھ کرریڈ لائٹ میں بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔ مقامی لوگ پولیس پراین جی اوکے ساتھ مل کرمحلے کےلوگوں کوتنگ کرنے کا بھی الزام لگا رہے تھے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ این جی اوکے ملازمین ان سے ہرماہ ایک لاکھ 50 ہزارروپئے کی مانگ کرتے ہیں۔ نہیں دینے پر پولیس کے ساتھ مل کرتنگ کرتے ہیں اورمحلے کے پڑھنے لکھنے والی لڑکیوں کویہاں سے پکڑکرلے جاتے ہیں۔

سیتا مڑھی کے مہم ایس پی سمیت کئی پولیس کےافسران موقع پرموجود ہیں۔ مہم ایس پی وجے شنکرسنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس کودیکھ کرایک بچہ بھاگنےکی کوشش میں پانی میں کود گیا اورڈوبنےسےاس کی موت ہوگئی۔ موقع پرحالات معمول پرہیں۔ ریڈ لائٹ جیسے مسئلے پرکام کرنے والےاین جی اوکی نشان دہی پرپولیس کے ذریعہ یہ کارروائی کی گئی ہے، جس میں چارسیکس ریکٹ میں ملوث لڑکیوں کو مشکوک حالت میں حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اے ایس پی مہم نے یہ بھی کہا کہ اگرحراست میں لی گئی لڑکیوں پرالزام ثابت نہیں ہوتا ہے توعام طریقے سے وہ اس محلے میں اگررہ رہی ہیں تو جانچ کے بعد پولیس انہیں رہا کردے گی۔

Loading...

دراصل ایک این جی اوکا الزام ہے کہ سیتا مڑھی کے وارڈ نمبر9 میں سیکس ریکٹ کا دھندا چل رہا ہے۔ این جی اونے پولیس کو بتایا کہ یہاں تقریباً 100 سے زیادہ فیملی رہتی ہے، جوناچ گانے کی آڑ میں سیکس ریکٹ کا دھندا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہاں پولیس کی چھاپہ ماری ہوتی رہتی ہے، جہاں سے زبردستی یہ دھندا کرانے والی لڑکیوں کو آزاد بھی کرایا گیا ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے یہاں این جی اوکی نشان دہی پرکی گئی چھاپہ ماری میں پولیس نے نیپال اوربنگلہ دیش کی لڑکیوں کو اس دلدل سے آزاد کرایا تھا۔

Loading...