ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

دوستوں کے ساتھ مل کر گرل فرینڈ کی اجتماعی آبروریزی کی ، پھر ماں کی مدد سے کیا یہ انتہائی گھنونا کام

ایک 17 سالہ لڑکی کو اس کے عاشق اور لڑکے کی ماں نے جنوبی تری پورہ کے شانتر بازار میں آگ کے سپرد کردیا ۔

  • Share this:
دوستوں کے ساتھ مل کر گرل فرینڈ کی اجتماعی آبروریزی کی ، پھر ماں کی مدد سے کیا یہ انتہائی گھنونا کام
دوستوں کے ساتھ مل کر گرل فرینڈ کی اجتماعی آبروریزی کی ، پھر ماں کی مدد سے کیا یہ انتہائی گھنونا کام

تلنگانہ اور اناو میں خواتین کی اجتماعی آبروریزی اور آگ لگا کر جلانے کی واردات سے پہلے ہی ملک بھر میں غصہ کا ماحول ہے ، وہیں اب تری پورہ میں بھی اب ایسی ہی ایک دل دہلادینے والی واردات سامنے آئی ہے ۔ یہاں ایک 17 سالہ لڑکی کو اس کے عاشق اور لڑکے کی ماں نے جنوبی تری پورہ کے شانتر بازار میں آگ کے سپرد کردیا ۔ بتایا جارہا ہے کہ اس واردات کو انجام دینے سے پہلے دو مہینے تک لڑکی کو یرغمال بناکر رکھا گیا تھا ۔ اس دوران لڑکی کے عاشق اور اس کے دوست نے اس کی کئی مرتبہ اجتماعی آبروریزی کی ۔ آگ لگنے کی وجہ سے لڑکی 90 فیصد تک جل گئی تھی ۔ لڑکی کو فورا ہی پڑوسیوں نے اسپتال میں بھرتی کرایا ، جہاں اس کی موت ہوگئی ۔


ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو گزشتہ دو ماہ سے یرغمال بناکر پیسوں کا مطالبہ کیا جارہا تھا ۔ لڑکی کی موت کی خبر ملتے ہی لوگ اسپتال کے باہر جمع ہوگئے اور ملزم نوجوان اور اس کی ماں پر حملہ کردیا ۔ لڑکی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ملزم اجے رودرپال نے ان کی بیٹی کو چھوڑنے کے بدلہ میں 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن وہ جمعہ تک 17 ہزار روپے ہی جمع کرسکے تھے ، جس کے بعد اجے نے لڑکی کو جلا دیا ۔


معاملہ کی جانچ میں مصروف ایس پی ( جنوبی تری پورہ ) جل سنگھ مینا کے مطابق اس معاملہ کے اہم ملزم اجے کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ پولیس کے مطابق لڑکی لڑکے سے سوشل میڈیا کے ذریعہ ملی تھی ۔ دیوالی کے وقت ملزم لڑکا لڑکی کے گھر پہنچا اور اس کو شادی کرنے کی پیش کش کی ، جس کے بعد سے ہی لڑکی اس لڑکے کے ساتھ رہنے لگی تھی ۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس کے بعد ملزم نے زبردستی اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیا اور پیسے کا مطالبہ کرنے لگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لڑکی کی کئی مرتبہ اجتماعی آبروریزی بھی کی ۔ متاثرہ کی ماں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی لڑکی غائب ہوئی تھی ، انہوں نے اس کی شکایت درج کرائی تھی ۔


لڑکی کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ اس معاملہ کی پولیس کو فورا جانکاری دی گئی تھی ، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اہل خانہ جب اسپتال میں لڑکی سے ملنے کیلئے پہنچے تو اس کی حالت کافی خراب تھی ۔ بیٹی نے مرنے سے پہلے انہیں بتایا کہ دو مہینے سے اس کی اجتماعی آبروریزی کی جارہی تھی ۔
First published: Dec 08, 2019 11:35 AM IST