وڈودرا میں جرمن لڑکی کی عصمت دری، متاثرہ نے کہا واقعہ کے بعد تین دنوں تک سو نہیں پائی

گجرات کا شہر وڈودرا ایک بار پھر شرمسار ہوا ہے۔

Jul 14, 2015 04:00 PM IST | Updated on: Jul 14, 2015 04:01 PM IST
وڈودرا میں جرمن لڑکی کی عصمت دری، متاثرہ نے کہا واقعہ کے بعد تین دنوں تک سو نہیں پائی

احمد آباد۔ گجرات کا شہر وڈودرا ایک بار پھر شرمسار ہوا ہے۔ وڈودرا آنند روڈ واقع اكلاو تحصیل کے امیٹا گاؤں کے پاس ایک فارم ہاؤس میں جرمن لڑکی کی عصمت دری کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ریو پارٹی میں ہوئی اس کی عصمت دری کے واقعہ میں وڈودرا کے بلڈر کے بیٹے کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گجرات کو شرمسار کر دینے والا یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب لڑکی سائیکالوجسٹ ڈاکٹر کے پاس پہنچی۔ آبروریزی کے واقعہ کے بعد لڑکی تین دن سے سو نہیں پائی تھی۔ جب متاثرہ انٹرنیشنل کونسل آف اکیڈمی اینڈ الكوہلك کونسل کے ممبر ڈاکٹر یوگیش پٹیل کے پاس آئی تب بھی وہ صدمے میں تھی۔ |

Loading...

لڑکی کی کائونسلنگ کرنے والے ڈاکٹر یوگیش نے ای ٹی وی کو بتایا کہ  انٹرنیشنل کونسل ایڈ آف ایڈکشن اینڈ الكوہلك ادارے کا رکن ہونے کے ناطے وہ لڑکی میرے پاس کائونسلنگ کے لئے آئی تھی۔ جب وہ آئی تو وہ پوری طرح سے صدمے میں تھی۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ مرد کو دیکھتے ہی خوفزدہ ہو جاتی تھی۔ کائونسلنگ کرنے کے بعد متاثرہ نے پورا واقعہ بتایا۔

کیا کہا متاثرہ لڑکی نے

جمعہ کو میں اور میرا بوائے فرینڈ دونوں ایک پارٹی میں گئے تھے۔ پارٹی دیر رات تک چلی۔ پارٹی میں جب وہ بیہوشی کی حالت میں تھی تو اسے پتہ نہیں چلا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، لیکن کوئی میرے جسم کو چھو رہا تھا تو میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے دیکھا تو میرے کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔ میرے پاس ایک لڑکا کھڑا تھا۔ میرے کپڑوں پر منی کا قطرہ گرا ہوا تھا۔ میں سمجھ گئی کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اس کا نام مجھے پتہ نہیں لیکن وہ شخص پارٹی میں تھا اور میں اس کا چہرہ پہچان سکتی ہوں۔ لڑکی نے بتایا کہ آبروریزی کے واقعہ کے بعد سے وہ تین دن سو نہیں پائی۔

آج ہوگا معاملہ درج

ڈاکٹر یوگیش پٹیل نے بتایا کہ منگل کو پولیس میں معاملہ درج ہو گا۔ پولیس کمشنر سے بات ہوئی ہے تو یہ فارم ہاؤس آنند میں آتا ہے تو آنند پولیس منگل کے روز مقدمہ درج کرے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جرمن لڑکی سے ریپ کرنے والا وڈودرا کے ایک بلڈر کا بیٹا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں تفتیش شروع کر دی ہے۔

Loading...