سیکس پاور کی دوائیں کھاکرشوہرکرتا تھا ریپ ، برداشت کی حد ٹوٹ گئی تو بیوی نے اٹھایا یہ قدم

حنا نے کہا کہ جسمانی تعلقات بناتے وقت بچوں تک کا بھی خیال نہیں رکھتا تھا۔ چھوٹے بچوں کی آنکھوں کے سامنے کالو بے شرمی سے وہ سب کرتا جو اسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔

Oct 24, 2018 11:31 PM IST | Updated on: Oct 25, 2018 05:19 PM IST
سیکس پاور کی دوائیں کھاکرشوہرکرتا تھا ریپ ، برداشت کی حد ٹوٹ گئی تو بیوی نے اٹھایا یہ قدم

علامتی تصویر

کمرے میں خون سے لتھ پتھ شوہر کی لاش دیکھ کر حنا چینخی تو گھر والے اور آس پاس کے کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ پولیس آئی جانچ شروع ہوئی۔ ثبوتوں کو دیکھا اور جمع کیا گیا اور سین آف کرائم کا معائنہ کیا گیا۔ کچھ لوگوں کے بیان لئے گئے اور حنا کی حالت تب بیان دینے کی نہیں تھی۔ اس لئے اس کا بیان بعد میں لینا طے کیا گیا۔ حناکے بیان کے بعد سے پہلے یہ سوال پہیلی بنا ہوا تھا کہ قاتل کون تھا؟

مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر میں گزشتہ 9 اکتوبر کو ایک دبنگ آدمی عیاض الرحمان کی لاش بینی سنگھ کی تلیا میں واقع اسی کے مکان میں ملی تھی۔ 32 سالہ رحمان کو لوگ کالو پہلوان کے نام سے جانتے تھے کیونکہ وہ پہلوان کے قد والا ہٹا کٹا آدمی تھا اور ایک سماج سیوی ادارہ بھی شروع کر چکا تھا۔ کالو کے قتل سے پورے علاقے میں سنسنی پھیلی ہوئی تھی اور پولیس جانچ جاری تھی۔

تین بچوں کی ماں حنا کابیان درج کیا گیا ۔ بقول حنا ۔ " اس رات کالو کے کچھ دوست آنے والے تھے جن کے ساتھ اسے بات چیت کرنی تھی۔ چونکہ کالو بیحد غصے والااور رعب دار آدمی  تھا۔ اس لئے اس نے بچوں کو لیکر مجے چھت پر بنے کمرے میں جانے کو کہا۔  میں بچوں کو لیکر چلی گئی تھی۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ دوست کون تھے۔ جب میں نیچے لوٹی تو اس کمرے میں کالو لہولہان پڑا تھا جسے دیکھ ر میں گھبراہٹ میں چینخ پڑی "۔

یہ بیان ٹھیک لگ سکتا تھا لیکن اس بیان کے پہلے سین آف کرائم کا معائنہ کے ساتھ کچھ لوگوں کے بیان لئے جا چکے تھے اس لئے اس بیان میں گنجائشیں تھیں کہ شک پیدا ہو۔  کیونکہ پولیس کو دئے بیان میں کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس رات کالو کے کچھ دوست آئے تھے۔ دوسری بات یہ کہ چھت پر جمی دھول کی پرتیں تھیں جنہیں دیکھ کر یہ صاف تھا کہ وہاں کئی دنوں سے کوئی نہیں گیا تھا۔ اس دھول پر پیروں کے یا کسی قسم کے نشان نہیں تھے۔

Loading...

حنا کا بیان شک کے دائرے میں آیا تو حنا سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی ۔ حنا اس دوران بار بار اپنی بات بدلتی رہی۔ اب پورا شک حنا پر تھا اسلئے پولیس نے خاتون پولیس کی مدد لی ۔ حنا سے اکیلے میں خاتون پولیس کے حوالے کرکے پوچھ گچھ کرائی گئی تو بہت دیر بھی نہ لگی کہ حنا اپنی بات سے ٹوٹ گئی۔ آخر کار حنا نے قتل کا جرم قبول کیا اور پوری کہانی بیان کردی۔ حان کی  بتائی کہانی اس طرح تھی۔

سماج کی نظروں میں عزت دار اور دبنگ آدمی سمجھا جانے والا کالو پہلوان حنا کیلئے ایک ظالم شوہر کے سوائے کچھ نہیں تھا۔ کالونے حنا کو گھر کا کام کرنے والی اور بچے پیدا کرنے والی مشین بنا کر رکھا تھا۔ شادی کے کچھ ہی سالوں میں حنا تین بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ سب سے برا بچہ 5۔6 سال کا تھا۔ سب سے چھوٹا دیڑھ سال کا۔

کالو اپنی طاقت کے دم پر حنا کی ایک نہیں سنتا اور اسے بری طرح مارتا پیٹتا تھا۔ حنا کے جسم پر چوٹوں کے نشان ہر وقت بنے رہتے تھے۔ ایک چرف حنا شوہر کالو کے برتاؤ سے اندر تک زخمی ہو چکی تھی جبکہ دوسری طرف اسے کئی مرتبہ شرم محسوس ہوتی تھی کیونکہ کالو اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بناتے وقت بچوں تک کا بھی خیال نہیں رکھتا تھا۔ چھوٹے بچوں کی آنکھوں کے سامنے کالو بے شرمی سے وہ سب کرتا جو اسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔ حالات کچھ ایسے بن چکے تھے کہ حنا گڑگڑاتی رہتی تڑپتی اور روکتی لیکن وہ ریپ کا شکار ہو رہی تھی۔

حنا کی تکلیفیں کم نہیں تھیں اس پر ایک ظلم اور ٹوٹا ۔ گزشتہ کچھ وقت سے کالو کو جوش یعنی پاور بڑھانے والی دواؤں کا چسکا لگ چکا تھا۔ وہ اس قسم کی دواؤں کا ستعمال کرتا اور حنا پر اور بھی بے دردی سے ظلم ڈھاتا تھا۔ طبیعت ٹھیک نہ ہو ، صحت خراب ہو ، نہ ہو کسی بات کی پرواہ کئے بغیر کالو اپنے سکون اور لت کیلئے مارپیٹ کر کے حنا کو استعمال کرتا رہا اور وہ حنا کو بھی مجبور کرنے لگا تھا کہ وہ سیکس پاور والی دواؤں کا استعمال کرے۔

حنا بیحد تکلیف اور پریشانی میں تھی ۔ آئے دن جھگڑا اور کالو کے ہاتھوں پٹنا س کی قسمت بن چکی تھی۔ حنا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ان حالات سے کس طرح نکلے کیونکہ گھر میں اس کی کوئی سننے والا نہیں تھا۔ سب کالو کے غصہ والے مزاج سے گھبراتے اور ڈرتے تھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ حنا کی چنخیں کسی کو نہیں سنائی دیتی تھیں۔ ا سلئے حنا کے پاس سوائے برداشت کتے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ لیکن جب ایک دن برداشت کی حد ٹوٹ گئی تو حنا نے یہ قدم اٹھایا۔

یہ کہانی سامنے آنے کے بعد پولیس نے میریٹل ریپ کی شکار حنا کے خلاف دفعہ 302 کے تحت کیس درج کر لیا اور کالو پہلوان قتل معاملے میں قاتل کا انکشاف ہونے کا دعوی کیا۔

یہ بھی پڑھیں : نابالغ 4 سالہ معصوم کی عصمت دری کرنے والے ٹیچر کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچا

Loading...