سری لنکا: لڑکی کو مارکر کھوپڑی کے کردئے 64 ٹکڑے، صدر نے معاف کی پھانسی تو بھڑکے لوگ

قابل غور ہے کہ جے ماہا نے 2005 میں کولمبو کے ایک اپارٹمینٹ میں سوڈان کی رہنے والی لڑکی ون جانسن کا پیٹ۔پیٹ کر قتل کردیا تھا۔ وہ سری لنکا گھومنے آئی تھی اور جے ماہا سے اس کا کچھ تنازعہ ہوگیا تھا۔

Nov 10, 2019 05:02 PM IST | Updated on: Nov 10, 2019 05:08 PM IST
سری لنکا: لڑکی کو مارکر کھوپڑی کے کردئے 64 ٹکڑے، صدر نے معاف کی پھانسی تو بھڑکے لوگ

A file photo of Sri Lankan President Maithripala Sirisena. (Reuters)

سری لنکا میں ان دنوں صدر میتری پال سری سینا کے فیصلے کے خلاف لوگوں میں ناراضگی نظر آرہی ہے۔ دراصل صدر میتریپال سر سینا نے سوئیڈش لڑکی کے قصوروار کی سزائے موت کو معاف کردیا ہے۔ اسے لیکر لوگ سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارم پر ان کی جم کر تنقید کر رہے ہیں۔

قاتل جوڈ جے ماہا ایک رئیس اور ہائی پروفائل کنبے سے ہے۔ صدر میتری پال سری سینا کی جانب سے اس کی سزا معاف کئے جانے کے بعد وہ سنیچر کو ویلیکادا جیل سے باہر آگیا۔ صدر  میتری پال سری سینا  نے گزرے مہینے اعلان کیا تھا کہ وہ جے ماہا کی معافی عرضی پر غور کررہے ہیں۔

قابل غور ہے کہ جے ماہا نے 2005 میں کولمبو کے ایک اپارٹمینٹ میں سوڈان کی رہنے والی لڑکی ون جانسن کا پیٹ۔پیٹ کر قتل کردیا تھا۔ وہ سری لنکا گھومنے آئی تھی اور جے ماہا سے اس کا کچھ تنازعہ ہوگیا تھا۔ اس کے قتل کے سلسلے میں کورٹ میں جانکاری دی گئی تھی کہ اس کی کھوپڑی کے 64 ٹکڑے ہوئے ہیں۔

Loading...

جانسن کے قتل کےالزام میں جے ماہا کو پہلے 12 سال کی سزا ہوئی۔ اس کے خلاف اس نے اعلیٰ عدالت میں عرضی دائر کی۔ بالائی کورٹ نے اس کی عرضی کو خارج کردیا ۔ ساتھ ہی اس کی 12 سال کی سزا کو سزائے موت میں بدل دیا۔ 2014 میں سپریم کورٹ نے بھی اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

جانسن کی بہن کیرولین نے اس سلسلے میں فیس بک پر ایک پوسٹ کیا۔ اس میں اس نے لکھا،  "قاتل  جے  ماہا کو اس کے کئے کا بالکل بھی پچھتاوا نہیں ہے۔ میں نے اور میرے کنبے نے خود کو کافی سنبھالاتھا اور اب ہھر ہم 15 سال بعد بھی انصاف کیلئے لڑ رہے ہیں"۔

Loading...