بیٹے کی موت پر بھی امن کا پیغام دے کر امام صاحب نے جیت لیا ہندستان کا دل

مغربی بنگال کے آسنسول میں رام نومی پر ہوئے تشدد میں کئی جانیں چلی گئیں۔فسادیوں نےوہاں کی نورانی مسجد کےامام کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا۔جوان بیٹے کی نعش دیکھنے کے باوجود امام صاحب نے عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی۔

Apr 04, 2018 03:01 PM IST | Updated on: Apr 04, 2018 03:08 PM IST
بیٹے کی موت پر بھی امن کا پیغام دے کر امام صاحب نے جیت لیا ہندستان کا دل

بیٹے کی جلی لاش دیکھ کر بھی نہیں رویا، ورنہ آنسوؤں کا سیلاب پورا شہر خاک کردیتا

مغربی بنگال کے آسنسول میں رام نومی پر ہوئے تشدد میں کئی جانیں چلی گئیں۔فسادیوں نےوہاں کی نورانی مسجد کےامام کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا۔جوان بیٹے کی نعش دیکھنے کے باوجود امام صاحب نے عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی۔پولیس کابھی مانناے ہیکہ امام صاحب کی اپیل سے عوام پر گہرہ اثر ہوا۔ہندی نیوز18 نے امام امدار الرشیدی سے بات چیت کی۔

تہوار کا دن تھا بیٹانماز پڑھ رہا تھا کہ تبھی باہر شور شرابا ہوا۔وہ باہر دیکھنے گیاکہ معاملہ کیا ہے۔تبھی بھیڑ میں کھو گیا۔

ہم تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔فساد کے دوران باہر نکلا ہر شخص فسادی نظر آتا ہے۔اس کی تلاش میں نکلے بڑے بیٹے کو پولیس نے پکڑ لیا۔کسی طرح سے اس کو چھڑایا،آئندہ صبح اسپتال سے فون کال آئی ہمیں ایک لاش کی تصدیق کیلئے بلایا گیا تھا۔کسی طرح خود کو سنبھالتے ہوئے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہی تھا ۔

Loading...

aimam sahb

سولہ سال کا نوجوان اور مضبوط تھا میرا بیٹا،اسے بے رحمی سے مارا گیا ،ناخن توڑ دئے گئے اور اس کے بعد آدھا جسم جلا ہوا تھا۔مرے بیٹے کو اس طرح سے مارا گیا تھا۔جیسا کرنا تو دور کی بات، دیکھنا بھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔

آسنسول تشدد معاملہ:اپنے خفیہ انٹیلی جنس میں سدھار کریگا مغربی بنگال

میں تڑپ اٹھا تبھی یاد آیا کہ میں صرف باپ نہیں ،30سالوں سے محلے کا امام بھی ہوں۔میرے آنسو لوگوں کے اندر ناراضگی کا سیلاب لا سکتے ہیں۔پہلے سے جل رہا شہر مکمل طور پر خاک ہو سکتا ہے۔میں نے آنسو پوچھ لیے۔

asansol 2 امام صاحب نے درد میں بھی دیا امن کا پیغام

ہزاروں لوگ تعزیت کیلئے میرے پاس آئے۔سارے لوگ ناراضگی کا اظہار کر رہےتھے۔میں نے سمجھایا کہ بیٹے کی موت پر ذرا بھی تشدد ہوا تو میں محلہ چھوڑ دوں گا۔شہر چھوڑ دوں گا۔اپیل کااثر نظر آیا جب جوان بیٹے کی لاش کو دیکھ چکا باپ کہتا ہیکہ تو اثر تو ہونا ہی تھا۔سب سے بڑی بات کہ میرے کہنے سے ان کی سوچ میں تبدیلی آئی جو سوچتےتھے کہ فلاں قوم کبھی سچی بات کہہ ہی نہیں سکتی۔میں نے سچی بات کی اور سب نے بیحد سنجیدگی سے اس پر عمل کیا۔

امام صاحب ہم آپ کے درد کو محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹے کی موت کو آج کئی دن گزر گئے۔وقت بہت بڑا مرحم ہے۔اندر سے زخم چاہے جتنا زندہ رہے باہر سے سوکھتا نظر آتا ہے۔

میں روز مسجد جاتا ہوں ،تسلی دینے والوں سے ملتا ہوں،بات کرتا ہوں لیکن ایک لمحے کو بھی بیٹے کا چہرہ میری آنکھوں سے دور نہیں جاتا۔چند دنوں پہلے میں اس سے ناراض ہوا تھا۔امی کو بغیر بتائے باہر جاتا اور وہ پریشان ہوتی تھیں۔مین نے اس بات پر بیٹے کو دو تھپڑ بھی مارے تھے۔نئی عمر کے لڑکوں کی طرح پلٹ کر اس نے کچھ نہیں کہا بلکہ ذاروقطاررونے لگا۔

اس دن سے وہ بغیر اجازت کے کہیں نہیں جاتا تھا۔سوائے رام نومی کے۔

ASANSOL 3

میں خود کو یہ سوچ کر تسلی دیتا ہوں کہ اس کی عمر خدا نے بس اتنی ہی لکھی تھی۔ملاقات کرنے والوں کے دلاسوں سے خود کو سمجھا لیتا ہوں لیکن اس کی ماں کی حالت خراب ہے۔میرے پاس کہنے کیلئے الفاظ ہیں،اس کے پاس صرف آنسوؤں کا پیغام ہے۔کوئی ماں اس سے الگ بھلا کر بھی کیا سکتی ہے۔جس کا ہنستا بولتا بیٹا اچانک یوں دنیا چھوڑ جائے۔

وہ اتنی غمگین رہتی ہے کہ میں گھر جانے سے ڈرنے لگا ہوں۔

باہری لوگوں کو سمجھا پاتا ہوں لیکن سچے آنسوؤں کے سامنے تسلی کے الفاظ بھی کہاں سے لاؤں۔ خیر اس بات سے خود کو تسلی دیتا ہوں کہ اللہ نے ابھی ہمیں ہمارے صبر کا صلہ دے دیا۔بدلے کی آگ نہیں بھڑکی بلکہ وہ لوگ بھی شرمندہ ہوں گے جنہوں نے اس بچے کے ساتھ ایسا کیا۔اب بس اس کے میٹرک کے ریزلٹ کا انتظار ہے۔اس نے بڑی محنت و لگن سے اپنے امتحان دیئے تھے۔

Loading...